’دستاویزات سامنے آنے سے امریکیوں کوخطرہ‘

امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے وکی لیکس سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی خفیہ سفارتی دستاویزات کو منظرِ عام پر نہ لائے کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی فوج اور امریکی حمایتیوں کی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
تاہم وکی لیکس کے وکیل نے خفیہ سفارتی دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے ہزاروں امریکیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہونے کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی یہ جانتے ہی نہیں کہ کون سی دستاویزات عام کی جائیں گی۔
<link type="page"><caption> وکی لیکس کیا ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/10/101023_what_is_wikileaks_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
وکی لیکس ویب سائٹ خفیہ دستاویزات منظرِ عام پر لانے کے لیے جانی جاتی ہے اور اس نے رواں برس اکتوبر میں افغانستان اور عراق پر خفیہ امریکی دستاویزات جاری کی تھیں اور اس بار خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کو منظرِ عام پر لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
وکی لیکس کا کہنا ہے کہ امریکی حکام ذمہ دار ٹھہرائے جانے سے خوفزدہ ہیں۔ ویب سائٹ کے وکیل مارک سٹیفن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خفیہ سفارتی دستاویزات کو میڈیا میں آنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُن کے مطابق امریکیوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ کون سی معلومات کو شائع کیا جائےگا۔
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایڈمرل مولن نے کہا ہے کہ وکی لیکس کے اقدامات ’انتہائی خطرناک‘ ہیں۔
یہ انٹرویو اتوار کو نشر ہوگا تاہم اس کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ انٹرویو میں امریکی ایڈمرل نے کہا کہ ’ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ذرا سی معلومات جب معلومات کے نیٹ ورک میں شامل ہوتی ہیں تو وہ ان معلومات کو سمجھنے کا ایسا راستہ کھول دیتی ہیں جو پہلے موجود نہ تھا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات افغانستان اور دیگر مقامات پر موجود امریکی فوجیوں اور ان سے معاونت کرنے والے افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ اس(سفارتی دستاویزات کے افشا) کے ذمہ دار اس ذمہ داری کے بارے میں بھی سوچیں گے جو ان افراد کی زندگی کے حوالے سے ان پر عائد ہوتی ہے جن کے بارے میں معلومات وہ سامنے لا رہے ہیں‘۔
ادھر امریکہ نے مستقبل قریب میں وکی لیکس کی جانب سے جاری کی جانے والے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے حکام سے رابطے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ترکی، اسرائیل، ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ ان سفارتی دستاویزات کے سامنے آنے سے ممکنہ طور پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ خفیہ دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس ضمن میں حلیف ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین کے علاوہ جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس اور افغانستان کے سربراہان سے بھی بات کی ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے ایک ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ ’یقیناً حکومت کو امریکی حکام اور امریکی سفیر نے ممکنہ طور پر افشا کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یہ دستاویزات سامنے نہیں آ جاتیں اس وقت تک میں یہ اندازہ نہیں لگانا چاہتا کہ یہ کس بارے میں ہیں‘۔





















