وکی لیکس: ہیلری کا چین، سعودی عرب کو فون

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں وکی لیکس کی جانب سے جاری کیے جانے والے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے چین اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے حکام کے ساتھ بات کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جمعہ کی شام چین کے وزیر خارجہ سے فون پر بات کی۔ تاہم انہوں نے اس بات چیت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

<link type="page"><caption> وکی لیکس کیا ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/10/101023_what_is_wikileaks_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

یاد رہے کہ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کل کہا تھا کہ خفیہ دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کے اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس ضمن میں حلیف ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وکی لیکس نے افغانستان اور عراق پر خفیہ امریکی دستاویزات جاری کیے تھے۔ وکی لیکس اس بار خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کو منظرِ عام پر لانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ہیلری کلنٹن نے چین کے علاوہ جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس اور افغانستان کے سربراہان سے بھی بات کی۔

دوسری جانب امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف مائیک مولن نے وکی لیکس سے استدعا کی کہ وہ ان خفیہ دستاویزات کو منظرِ عام پر نہ لائے کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی فوج اور امریکی حمائتیوں کی جانیں خطرے میں آ جائیں گی۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا ’ان سفارتی دستاوزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ ان دستاویزات کی وجہ سے ہمارے سفارت کاروں اور اتحادی ممالک کی حکومتوں کے روابط میں کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔‘

اے پی کے مطابق وکی لیکس یہ دستاویزات اس ہفتے کے اختتام تک جاری کردے گا۔