قومی سلامتی یا قومی شرمندگی؟

- مصنف, پال رینالڈز
- عہدہ, بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار
امریکی سفارتکاروں کی خط و کتابت کے سامنے آنے سے یقیناً بہت کچھ افشا ہوا ہے اور کبھی کبھار یہ چونکا بھی دیتی ہے لیکن کیا یہ نقصان دہ بات ہے؟
کیا یہ واقعی امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں یا کیا یہ محض امریکی قومی شرمندگی کا باعث ہے۔
اس کا ایک ٹیسٹ یہ ہو گا کہ کیا یہ کیبلز (خط و کتابت) ایسی خفیہ امریکی پالیسی ظاہر کرتی ہیں جو کہ عوام کے سامنے آنے والی پالیسی سے مختلف ہے؟
یہاں، ایران کا معاملہ اہم ہے۔ دستاویز یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ خفیہ طور پر جنگ نہیں چاہتا تھا بلکہ اس نے اسرائیل اور دیگر عرب رہنماؤں کی طرف سے ایسا کرنے کے لیے دباؤ برداشت کیا تھا جن کا آپس کا مفاد اس معاملے میں یکساں تھا۔
یہ بالکل صدر براک اوباما کی عوامی سفارتکاری سے متابقت رکھتی ہے کہ ایران سے بات چیت جاری رہے اور اگر ضرورت پڑے تو اس کی جوہری صلاحیت کو روکنے کے لیے اس پر پابندیاں لگا دی جائیں۔
اس سلسلے میں نقصان یہ ہوا ہے کہ امریکہ خلیجی رہنماؤں کے ایران پر حملہ کرنے کی بات کو راز نہیں رکھ سکا اور یہ عام ہو گئی۔ لیکن باقی دنیا کے لیے یہ در حقیقت بہت اہم معلومات ہیں۔ اس سے ہو سکتا ہے کہ ایران بھی سوچ میں پڑ جائے۔
لیکن ایک خفیہ آپریشن بھی ہے جس کا راز ان معلومات نے افشا کیا ہے۔ وہ امریکی سفارتکاروں کی اقوامِ متحدہ کے سینیئر اہلکاروں اور سلامتی کونسل کے نمائندوں کی نجی معلومات، جن میں پاس ورڈز اور ان کے فریکوینٹ فلائیر نمبرز (سفر سے متعلق تفصیلات) بھی شامل ہیں، حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
یہ یہاں پر برطانوی سفارتکار کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں ہو گا۔ وہ اب تک شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ملک کے امریکہ کے ساتھ ’خصوصی تعلقات‘ کی وجہ سے وہ اس قسم کی چیزوں سے محفوظ ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور آشکار کیا جانے والا آپریشن اس قابل بھی لگتا ہے کہ اسے افشا کیا جائے۔ یہ پاکستان کے جوہری مواد کو دہشتگردوں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کی کوشش ہے۔ لیکن ان پیغامات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے امریکی ماہرین کو جوہری ری ایکٹر کے دورے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری ایندھن کی منتقلی کو پاکستان میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کی شکل میں دیکھا جائے گا۔
اسی طرح دوسرے ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور کے متعلق ذاتی نوعیت کی گفتگو اور امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ایسی بات چیت بھی ہے کہ اگر شمالی کوریا ختم ہو جائے تو کیا کیا جانا چاہیئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اب ایک ایسا نیا سسٹم متعارف کرایا جائے گا کہ جس میں سفارتی ٹریفک کو تحفظ دیا جا سکے۔ سفارتکار اور حکومتیں ہمیشہ چاہیں گی کہ انہیں اتنا صیغۂ راز میں رکھا جائے جتنا وہ چاہتے ہیں یا جتنے سے وہ بچ سکتے ہیں۔
جب بھی ان کی رپورٹوں کا افشا کیا جائے گا وہ چیخیں چلائیں گے۔ میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ اس طری کی ’لیکس‘ سے شاذو ناذر ہی پائدار نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس سے اکثر فائدہ ہی ہو جاتا ہے۔
سو سال پہلے حکومتیں خفیہ شقوں والے معاہدوں پر دستخط کرتی تھیں۔ اب وہ دور ختم ہو چکا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ معلومات کی اس بوچھاڑ سے یہ احساس پیدا ہو کہ راز داری ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی، لیکن میرے خیال میں کوئی ایسا نہیں سوچے گا۔






















