وکی لیکس کے ویب سائٹ پر ہیکرز کا حملہ

انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کا کہنا ہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کی خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے قبل اس پر ہیکرز نے حملہ کر دیا ہے۔

وکی لیکس کی طرف سے سوشل میڈیا سروس ٹوئٹر پر شائع کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے سائٹ پر ہیکرز نے ایک ایسا بڑا حملہ کیا ہے جس کے سبب یہ اپنی سروس لوگوں تک پہنچانے سے قاصر ہے۔

تاہم اس نے کہا ہے کہ ویب سائٹ کی بندش کے باوجود وہ امریکی وزارتِ خارجہ کی ان خفیہ دستاویزات کو لوگوں تک پہنچائے گا جس کا اس نے اعلان کر رکھا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ کئی اخبار بھی وہ دستاویزات شائع کریں گے جو وکی لیکس کی طرف سے انہیں پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس سے پہلے امریکہ نے وکی لیکس کو خبردار کیا تھا کہ امریکی وزارتِ خارجہ کی خفیہ دستاویزات کے اجراء سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی اور امریکہ کے اپنے اتحادیوں سے تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔

<link type="page"><caption> وکی لیکس ہیں کیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/10/101023_what_is_wikileaks_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

امریکی وزارتِ خارجہ کے وکیل نے ہفتے کو وکی لیکس کے سربراہ جولین اسانش کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دستاویزات کے اجراء سے خفیہ فوجی کارروائیاں منظر عام پر آ جائیں گی اور امریکی ساکھ کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔

وکی لیکس امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو بھیجنے جانے والے ڈھائی لاکھ سے زیادہ خطوط اتوار کو شائع کرنے والا ہے اور ان خطوط کی کاپیاں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز، برطانوی اخبار گارڈین اور ایک جرمن نشریاتی ادارے کو پہلے سے مہیا کر دی گئی ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے قانونی مشیر ہیرالڈ کوہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانش کو یہ خط جواباً تحریر کیا ہے۔ جولین اسانش کے وکیل نے امریکی وزارت خارجہ سے ان افراد کے ناموں کی فہرست مانگی تھی جن کی زندگیوں کو بقول امریکی حکومت کے دفترِ خارجہ کی دستاویزات کے اجراء سے ممکنہ طور پر خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ خفیہ دستاویزات کو جاری کرنا امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔

جولین اسانش نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو ان دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد جوابدہ ہونا پڑے گا جس سے وہ خوف زدہ ہے۔

ادھر امریکہ نے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے حکام سے رابطے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ترکی، اسرائیل، ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ ان سفارتی دستاویزات کے سامنے آنے سے ممکنہ طور پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ خفیہ دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس ضمن میں حلیف ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین کے علاوہ جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس اور افغانستان کے سربراہان سے بھی بات کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے ایک ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ ’یقیناً حکومت کو امریکی حکام اور امریکی سفیر نے ممکنہ طور پر افشا کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یہ دستاویزات سامنے نہیں آ جاتیں اس وقت تک میں یہ اندازہ نہیں لگانا چاہتا کہ یہ کس بارے میں ہیں‘۔