وکی لیکس نقصانات، روک تھام کے لیے ماہر مقرر

انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے حال ہی میں افشاء کی گئی خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے امریکی صدر براک اوباما نے دہشت گردی کی روک تھام کے ایک ماہر کو مقرر کیا ہے۔
ماہر رسل ٹریورز یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ امریکی حکومت کے انٹرنیٹ کے ریکارڈ سے کس طرح ہزاروں خفیہ فائلیں باہر گئیں۔
رسل ٹریورز کو یہ ہدف بھی دیا گیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے کمپیوٹر نیٹ ورک کی سکیورٹی کو سخت بنائیں گے۔
<link type="page"><caption> ’دستاویزات سامنے آنے سے امریکیوں کو خطرہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101127_wikileaks_mullen_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے وکی لیکس کو نہ صرف امریکہ بلکہ بین الاقوامی برادری پر حملہ قرار دیا تھا۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق خفیہ سفارتی پیغامات کا ایک بڑا حصہ امریکی محکمہ دفاع کے نیٹ ورک ِسپر نیٹ سے حاصل کیا گیا ہے۔
اسی دوران وکی لیکس نے تصدیق کی ہے کہ اب آن لائن کمپنی ایمیزون اس کی ویب سائٹ کو ہوسٹ نہیں کر رہی ہے۔
وکی لیکس ویب سائٹ پر اس ہفتے سائبر حملے ہوئے تھے جس کے بعد وہ ایمیزون کے سرور پر منتقل ہوگئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ُادھر وکی لیکس کے ایک ترجمان نے کرسٹین رافنسن نے بی بی سی کو بتایا کہ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کچھ ساتھیوں کےساتھ ایک خفیہ جگہ پر موجود ہیں جہاں وہ موجودہ پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔






















