’سفارتکاروں سے خفیہ معلومات کا مطالبہ کیا گیا‘

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے 2008 میں مختلف ملکوں میں اپنے سفارتکاروں کو ایسی خفیہ معلومات جمع کرنے کی ہدایات جاری کیں جن سے سفارتی اور جاسوسی فرائض میں فرق غیر واضح ہوکر رہ گیا۔
امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے دستاویز کے مطابق سفارت کاروں کو اقوام متحدہ اور دوسرے ملکوں میں اہم شخصیات کے کریڈٹ اور بزنس کارڈز کی تفصیلات جمع کرنے، ان کے اوقات کار اور دوسری ذاتی معلومات جمع کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
<link type="page"><caption> وکی لیکس ہیں کیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/10/101023_what_is_wikileaks_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
تاہم مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ اور اقوام متحدہ میں امریکی مشن کو جو پیغامات ارسال کیے گئے، اُن میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ امریکی سفارت کاروں نے دوسرے ملکوں کے خفیہ قومی معلومات چرانے کی کوشش کی جو عموماً ملک کی انٹیلیجنس ایجنیسیاں کرتی ہیں۔
افغانستان، الجیریا اور بحرین میں سابق امریکی سفیر رونلڈ ای نومین ایک دستاویز میں یہ شکوہ کرتے ہوئے پائے گئے کہ واشگنٹن ان سے دیگر ملکوں کے بارے میں مسلسل وسیع پیمانے پر معلومات بھیجے کا تقاضہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ ناقابل فہم ہے کہ مختلف شخصیات کے کریڈٹ کارڈز کے نمبر وغیرہ جمع کرنے کا مطالبہ فارن سروس کے افسران سے کیوں کیا جارہا ہے جن کے پاس اس طرح کی خفیہ معلومات جمع کرنے کی تربیت نہیں ہے۔
’سب سے پہلے میری تشویش یہ ہے کہ آیا سفارت کار ذمے دارانہ طریقے سے اور کسی مشکل میں پھنسے بغیر ایسا کرسکیں گے یا نہیں، اور دوسرے یہ کہ ایسا کرنے میں اُن کا جو وقت صرف ہوگا اُس سے ان کے اپنے معلول کے فرائص انجام دینے میں کتنا حرج ہوگا۔‘
اسی طرح مارچ دو ہزار آٹھ میں لکھے گئے ایک اور خط میں پیراگوئے میں تعینات ایک سفارت کار سے پیراگوئے، برازیل اور ارجنٹائین کے سرحدی علاقے میں ال قاعدہ، حز ب اللہ اور حماس کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا گیا۔
اس سے پہلے امریکہ نے وکی لیکس کو خبردار کیا ہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ کی خفیہ دستاویزات کے اجراء سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی اور امریکہ کے اپنے اتحادیوں سے تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزارتِ خارجہ کے وکیل نے ہفتے کو وکی لیکس کے سربراہ جولین اسانش کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دستاویزات کے اجراء سے خفیہ فوجی کارروائیاں منظر عام پر آ جائیں گی اور امریکی ساکھ کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔
وکی لیکس امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو بھیجنے جانے والے ڈھائی لاکھ سے زیادہ خطوط شائع کررہا ہے اور ان خطوط کی کاپیاں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز، برطانوی اخبار گارڈین اور ایک جرمن نشریاتی ادارے کو پہلے سے مہیا کر دی گئی ہیں۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے قانونی مشیر ہیرالڈ کوہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانش کو یہ خط جواباً تحریر کیا ہے۔ جولین اسانش کے وکیل نے امریکی وزارت خارجہ سے ان افراد کے ناموں کی فہرست مانگی تھی جن کی زندگیوں کو بقول امریکی حکومت کے دفترِ خارجہ کی دستاویزات کے اجراء سے ممکنہ طور پر خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ خفیہ دستاویزات کو جاری کرنا امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو گا۔
جولین اسانش نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو ان دستاویزات کے جاری ہونے کے بعد جوابدہ ہونا پڑے گا جس سے وہ خوف زدہ ہے۔
ادھر امریکہ نے خفیہ دستاویزات کے حوالے سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے حکام سے رابطے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ترکی، اسرائیل، ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ ان سفارتی دستاویزات کے سامنے آنے سے ممکنہ طور پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ خفیہ دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے امریکہ کے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس ضمن میں حلیف ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین کے علاوہ جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، فرانس اور افغانستان کے سربراہان سے بھی بات کی ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے ایک ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ ’یقیناً حکومت کو امریکی حکام اور امریکی سفیر نے ممکنہ طور پر افشا کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یہ دستاویزات سامنے نہیں آ جاتیں اس وقت تک میں یہ اندازہ نہیں لگانا چاہتا کہ یہ کس بارے میں ہیں‘۔



















