’مقصد لیبیا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے کہا ہے کہ مغربی ممالک یا اقوامِ متحدہ نے حکومت مخالف افراد کے کہنے پر نو فلائی زون کا اطلاق کیا تو اس کے خلاف لیبیا کی عوام مسلح جدوجہد کرے گی۔

ترکی کے ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں کہا کہ نو فلائی زون کا اصل مقصد لیبیا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔

دوسری جانب لیبیا کی حمایتی فوج نے طرابلس سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع زاویہ شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے قریب ہے۔

معمر قذافی نے کہا ’اگر نو فلائی زون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو یہ لیبیا کی عوام کے لیے اچھا ہو گا۔ کیونکہ عوام کو سچائی معلوم ہو گی کہ اصل مقصد لیبیا کا کنٹرول اور تیل حاصل کرنا ہے۔ اور یہ سچائی جاننے کے بعد عوام مسلح جدوجہد کے لیے تیار ہو جائے گی۔‘

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ نو فلائی زون کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کرے گی۔

بدھ کی صبح معمر قذافی نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کیا اور کہا کہ یورپی ممالک اور القاعدہ ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

مخلفین کے کنٹرول میں شہر بن غازی کے بارے میں انہوں نے خطاب میں کہا ’بن غازی کی عوام کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ سڑکوں پر نکل آئیں اور باغیوں کو شکست دیں۔‘

مصراتہ

مصراتہ کے ایک رہائشی محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مصراتہ شہر میں حالات بہت کشیدہ ہیں اور لوگوں کے جذبات عروج پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ قذافی کی فوجیں شہر کے مغرب میں جمع ہو رہی ہیں اور مصراتہ کے لوگ حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’ہم دفاعی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں اور اسلحہ جمع کر رہے ہیں۔ فوج کے پچھلے حملے میں ہم نے چار فوجی جیپیں اور دو لینڈ کروزرز پر قبضہ کیا تھا۔‘

محمد نے بتایا کہ کچھ بازار کھلے ہیں لیکن سڑکیں ویران پڑی ہیں۔

ٹرانزیشنل نیشنل کونسل

معمر قذافی کے مخالفین کے رہنماوں نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ مخالف گروپ کو لیبیا کی عوام کے نمائندے کے طور پر قبول کرے۔

محمود جبریل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’لیبیا کی عوام کے نمائندے کے طور پر قبول کیے جانا ہی واحد مقصد تھا کہ لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔‘

سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ لیبیا میں سیاسی خلا پیدا نہیں ہو گی۔

اعلیٰ عہدیدار مصر میں

لیبیا کا ایک جہاز لیبیا کے اعلیٰ عہدیداران کو لے کر مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچا ہے۔

لیبیا کی فوج کے میجر جنرل عبدالرحمان بن علی السید ایک نجی طیارے میں قاہرہ پہنچے۔ قاہرہ میں لیبیا کے سفارتخانے کے اہلکار نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ میجر جنرل عبدالرحمان کرنل قذافی کا ایک پیغام لے کر آئے ہیں۔