جاپان:’متاثرہ پلانٹ سے تابکاری کی سطح میں کمی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

جاپان میں حکومت نے کہا ہے کہ فوکوشیما کے متاثرہ جوہری پلانٹ پر تابکاری کی سطح میں کمی آئی ہے۔

موسمیاتی رپورٹس کے مطابق جوہری پلانٹ سے تابکاری ہوا کے ذریعے جاپان کے شمال مشرقی ساحلی علاقے کی جانب اڑ رہی ہے۔

اس سے پہلے حکومت نے خبردار کیا تھا کہ جوہری بجلی گھر سے تابکاری کی سطح اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ انسانوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/03/110314_jap_help_rza.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ’جوہری پلانٹ میں تیسرا دھماکہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/03/110314_jap_help_rza.shtml" platform="highweb"/></link>

حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوکوشیما کے متاثرہ جوہری پاور پلانٹ کے ارد گرد بیس سے تیس کلومیٹر کے علاقے سے ہر کسی کو باہر نکل جانا چاہیے یا وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

حکام نے بیس سے تیس کلومیٹر کے دائرے میں فضائی پابندیاں بھی لگا دی ہیں تاکہ ہوائی جہاز تابکاری پھیلانے کا سسبب نہ بنیں۔

دریں اثناء جاپان میں ایک اعلیٰ حکومت اہلکار کا کہنا ہے کہ فوکوشیما کے جوہری بجلی گھر کے ری ایکٹر نمبر دو میں دھماکے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

حکومتی اہلکار یوکیو ایدانو کا کہنا ہے کہ تابکاری کی سطح میں کمی آ رہی ہے اور اس صورت میں انسانوں کے لیے خطرناک ہے جب وہ ایک خاص مدت تک تابکاری کے ماحول میں موجود رہیں۔

اس وقت جوہری بجلی گھر کے چار ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس وقت جوہری بجلی گھر کے چار ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس وقت جوہری بجلی گھر کے چار ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے

انھوں نے کہا کہ بجلی گھر کے ری ایکٹر نمبر پانچ اور چھ کے درجہ حرارت میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جاپان میں فرانس کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ ہلکے درجے کے تابکاری اثرات ہواؤں کے ذریعے کچھ ہی گھنٹوں میں دارالحکومت ٹوکیو تک پہنچ سکتے ہیں۔

تابکاری کی سطح بلند ہونے پر بی بی سی اور دنیا کے کئی دوسرے صحافتی اداروں نے اپنے نامہ نگاروں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے باہر نکل جانے کو کہا ہے۔

منگل کی صبح ہونے والے دھماکے سے قبل ری ایکٹرز کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہونے کے بعد جاپان نے صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے عالمی مدد مانگی تھی۔

گزشتہ چار دنوں میں فوکوشیما کے جوہری بجلی گھر میں ہونے والا منگل کو ہونے والا یہ تیسرا دھماکہ ہے۔

امریکہ میں جوہری ریگولیٹرز کے مطابق جاپان کی طرف سے انھیں درخواست موصول ہوئی ہے کہ فوکو شیما کے جوہری بجلی گھر میں لگے ری ایکٹرز کے لیے پانی اور دیگر وسائل کی ضرورت ہے۔

جمعہ کو شمال مشرقی جاپان میں تاریخ کے ایک بدترین زلزلے اور اس کے نتیجے میں سونامی سے جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں وہیں فوکو شیما کے جوہری بجلی گھر کو نقصان پہنچا ہے۔ یہاں ایک ری ایکٹر میں جمعہ کو دھماکہ ہوا تھا جبکہ پیر کو ایک اور ری ایکٹر میں دھماکہ ہوگیا۔ لاکھوں افراد کو تابکاری سے بچاؤ کے پیشِ نظر علاقے سے باہر نکالا گیا ہے اور درجنوں افراد کو تابکاری سے بچاؤ کی ادویات بھی دی گئی ہیں۔

جاپان نے جوہری توانائی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے سے بھی امداد کے لیے کہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

نقصان زدہ بجلی گھر کے آپریٹر نے کہا ہے کہ ایک ری ایکٹر میں فیول راڈ ایک بار پھر شدید خطرے میں ہیں۔ محض چند گھنٹے پہلے ان راڈز کی وجہ سے ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی تاہم اس پر قابو پا لیا گیا تھا۔

دریں اثناء جمعہ کے زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کئی لاکھ افراد چوتھی رات بھی پانی، خوراک، بحلی یا گیس کے بغیر گزار رہے ہیں۔

نئے اعداد و شمار کے مطابق زلزلے اور سونامی سے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ پیر کو ساحلی علاقوں سے تقریباً دو ہزار لاشیں ملی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چار ہزار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ابھی بھی ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔میاگی کے علاقے میں دو ہزار لاشیں ملی ہیں جبکہ اوجیکا اور منامی سنرکو کے علاقوں میں ایک ایک ہزار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ دونوں ہی علاقے سونامی سے تباہ ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز جاپان کے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ جمعہ کا زلزلہ اور سونامی دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کے لیے سب سے بڑا اور بدترین بحران ہے۔

پیر کو حکومت نے سٹاک مارکیٹ کو بچانے کے لیے سات کھرب ین (چھیاسی بلین ڈالر) ملکی معیشت میں لگائے ہیں۔پیر کو جمعہ کے زلزلے اور سونامی کے بعد جب مارکیٹ کھلتے ہی شدید گرواٹ کا شکار ہوگئی تھی۔

جاپان کے ایک بہت بڑے حصے میں بجلی دستیاب نہیں ہے اور جہاں دستیاب ہے وہا پر بھی پیر سے بجلی کی راشننگ کی جائے گی جو اپریل تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس راشننگ کا شکار دارالحکومت ٹوکیو بھی ہوگا۔ ان مقامات پر تین گھنٹے تک بجلی فراہم نہیں کی جائے گی۔

جاپانی حکومت نے ایک لاکھ فوج کو عام لوگوں کی مدد کے لیے کام پر لگا دیا ہے۔ تاہم حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ صورتِ حال سے بہتر انداز میں نبرد آزما نہیں ہو رہی۔

ادھر جاپان کی سٹاک مارکیٹ منگل کو دوسرے روز بھی شدید مندی سے دو چار رہی۔ حکومت نے صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے کئی ٹریلن ین معیشت میں لگائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service