لیبیا پر’نو فلائی زون‘ کی قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی قرارداد منظور ہونے پر باغیوں کے قبضے میں بن غازی شہر میں خوشیاں منائی گئیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی قرارداد منظور ہونے پر باغیوں کے قبضے میں بن غازی شہر میں خوشیاں منائی گئیں

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے اور ’شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات‘ کی منظوری دے دی ہے تاہم سلامتی کونسل کی قرارداد میں غیر ملکی افواج کی لیبیا میں زمینی کارروائی کی واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے۔

اس قرارداد کے حق میں جسے برطانیہ، فرانس اور لبنان نے پیش کیا تھا، دس ووٹ ڈالے گئے اور کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی جبکہ روس، چین، اور جرمنی سمیت پانچ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

عرب لیگ بھی لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے کے حق میں قرار داد منظور کر چکی ہے۔

قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی صدر نے برطانوی اور فرانسیسی رہنماؤں سے اس پر عملدرآمد کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

فرانس نے کہا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں کرنل قدافی کی فوج کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہو سکتی ہے تاہم امریکی حکام کے مطابق لیبیا کی فضائیہ کو بےاثر کرنے کے لیے کارروائی اتوار یا پیر سے شروع ہوگی۔

سلامتی کونسل کی اس قرارداد کا مقصد کرنل قدافی کی فوجوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں باغیوں پر فضائی حملوں سے روکنا ہے۔ کرنل قدافی کی فوجیں کچھ دنوں سے باغیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی تھیں اور باغیوں کے مرکز بن غازی کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔

قرارداد کی منظوری کے بعد باغیوں کے گڑھ بن غازی میں آتشبازی اور ہوائی فائرنگ کر کے اس کا خیرمقدم کیا گیا جبکہ لیبیا کی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر خالد قیم نے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو ملک کی یکجہتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

قرارداد کی منظوری سے کچھ دیر قبل کرنل قذافی نے پرتگالی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ’اگر دنیا پاگل ہے تو ہم بھی پاگل ہو جائیں گے‘۔

فرانس کے وزیر خارجہ ایلن یوپ نے قرارداد کو پیش کیا اور کہا کہ پچھلے کئی ہفتوں سے کرنل قدافی نے اپنے ہی لوگوں پر حملہ کر رکھا ہے اور عالمی برادری اس کی اجازت نہیں دے سکتی۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بھی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو سراہا جبکہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کو اپنے لوگوں کے خلاف کارروائی سے روکنے کے لیے اس کی زمینی فوج کو بھی نشانہ بنانا پڑے گا۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ براہ راست لیبیا پر حملے میں شریک نہیں ہو گا بلکہ فرانس اور برطانیہ کی فضائیہ لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرے گی تاہم امریکہ لیبیا پر حملوں کے لیے سہولتیں فراہم کرے گا۔

خطے کے کچھ ممالک بھی لیبیا کے خلاف کارروائی میں مدد کے لیے رضامند ہیں لیکن لیبیا کے پڑوسی ملک مصر نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے لیبیا پر کسی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔