بحرین: امریکہ اور سعودی عرب کی بے چینی

امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ خیلیج کی چھوٹی سے ریاست بحرین میں ہے جہاں آج کل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اور امریکی اور سعودی عرب نگاہیں ان مظاہروں پر بڑی باریک بینی سے جمی ہوئی ہیں۔
بحرین میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن یہاں اقتدار سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کے پاس ہے جنھیں الخلیفہ کہا جاتا ہے۔
جوں جوں مصر میں تیزی کے ساتھ واقعات آگے بڑھے، بحرین میں حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے چودہ فروری کو غصے کے دن کے طور پر منانے کا مطالبہ کر دیا۔
چنانچہ پیر کو جزیرے کے ان دیہاتوں میں جہاں شیعہ مسلمانوں رہتے ہیں جھڑپیں ہوئیں اور دارالحکومت مناما میں ’مصر کی تحریر سکوائر جیسی تحریک‘ کے آغاز کی کوششیں ہوئیں۔

مظاہرین کی طرف سے بنائی گئی وڈیو سے جسے انٹرنیٹ پر بھی پوسٹ کیا گیا ہے دکھائی دیتا ہے کہ پولیس پُر امن مظاہرین پر اشک آور گیس سے حملہ کر رہی ہے اور ان پر ربڑ کی گولیاں چلا رہی ہے۔
ابھی تک حکومت کی طرف سے درشت طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں اور دوہلاک ہوگئے ہیں۔ اکیس برس کے ایک نوجوان کی ہلاکت ربڑ کی گولی لگنے سے ہوئی۔
منگل کو جب اس نوجوان کے جنازے کے موقع پر احتجاجی مارچ ہوا تو گولی لگنے سے ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
ماضی میں بھی احتجاج کرنے والوں کو عام طور پر آنسو گیس کا بھی سامنا ہوتا ہے اور سکیورٹی افواج کے ہاتھوں مار پیٹ کا بھی۔ لیکن گزشتہ کسی برسوں میں پہلی بار اس طرح کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجہ سے بحرین کے عام لوگوں میں غصہ مزید بڑھے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین جن میں سے اکثر بحرینی پرچم لہرا رہے ہوتے ہیں، اب ایک نئے آئین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اگست سنہ دو ہزار دس سے اب تک جن سینکڑوں شیعہ افراد اور لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے انھیں رہا کیا جائے اور شہری حقوق کی پامالیاں ختم کی جائیں۔
بحرین کے بادشاہ نے سرکاری ٹی وی پر آ کر وعدہ کیا ہے کہ دو مظاہرین کی ہلاکتوں کی تقحقیات کی جائے گی اور تبدیلیوں پر بات چیت کے لیے انھوں نے ایک کمیٹی بنانے کی بھی پیشکش کی ہے۔
لیکن بحرین کے حقوقِ انسانی کے مرکز میں نجیب رجب نے اپنے فوری ردِ عمل میں یہ کہا: ’بہت دیر ہوگئی اور یہ سب کچھ بہت کم ہے۔کل لوگ اصلاحات کی مانگ کر رہے تھے لیکن آج ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تبدیل کی جائے۔‘
تاہم مغربی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں بحرین میں مصر جیسا انقلاب شاید نہ آئے۔ جین ڈیفنس ویکلی کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے سینیئر تجزیہ نگار گالا ریانی کہتے ہیں ’بحرین اس طرح کی بد امنی کا عادی نہیں ہے۔ یہاں حکام صورتِ حال پر قابو پا لیں گے جیسا کہ وہ ماضی میں بھی ایسا کر چکے ہیں اگر احتجاج کی نوعیت فرقہ وارانہ ہوئی تو۔‘
لیکن یہ ایک بڑی ’اگر‘ ہے۔
خاتون صحافی ریم خلیفہ جو بحرین کے اخبار الوسط کے سینیئر ایڈیر ہیں کہتی ہیں ‘اس مرتبہ احتجاج مختلف قسم کا ہے۔ نوجوان سنی اور شیعہ دونوں اکٹھے مارچ کر رہے ہیں اور وہ نعرے لگا رہے ہیں ہم ’نہ سنی نہ شیعہ صرف بحرینی‘۔ ریم کہتی ہیں کہ اس طرح کی صورتِ حال ہم نے پہلی نہیں دیکھی۔

ریم کے مطابق اس احتجاج میں خواتین کی بھر پور شمولیت ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سیکورٹی کے اہلکار ان کے ساتھ بدتمیزی شاید بہت کم کریں۔ تاہم انھوں نے خود ایک خاتون کے ساتھ اس وقت بدسلوکی ہوتے دیکھی جب اس خاتون نے ملکی پرچم لہراتے ہوئے سکیورٹی لائن عبور کی۔
بحرین میں سکیورٹی پر مامور افراد بحرینی نہیں بلکہ پاکستان، یمن، شام اور اردن کے سنی مسلمان ہیں۔ ان کی شہریت یقینی بنانے کے لیے برق رفتار طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جاتا ہے۔ اور مظاہرین ان لوگوں سے تنگ ہیں۔
مظاہرین میں سے ایک نے مجھے بتایا ’ان میں سے کچھ پولیس والے ایسے ہی جو عربی ہی نہیں بولتے اور نہ لوگوں کے لیے ان کے دل میں کوئی احترام ہے۔ انھیں احترام ہے تو بس اپنے آقاؤں کا۔‘
ادھر امریکی صدر براک اوباما کو ایک اور سر دردی کا سامنا ہے کیونکہ بحرین میں پانچواں امریکی بحری بیڑہ ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کے سامنے دیوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اور مصر کی طرح امریکی پالیسی یہی رہی ہے کہ بحرین میں استحکام اور لوگوں کو دبا کر رکھنے والی حکومت کی حمایت جاری رکھی جائے اور بحرینیوں کے جائز مطالبات نظر انداز کیے جاتے رہیں۔
لیکن اگر یہ مظاہرے فرقہ وارانہ تقسیم سے آگے نکل گئے اور بحرینی حکومت نے ان کو دبانے کے لیے مزید وحشیانہ طریقے استعمال کیے تو واشنگٹن کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی اور بحرینی حکومت کی مدد کرنے کا مطلب ایک اور عرب ملک میں لوگوں کی جمہوری خواہشات پوری نہ کرنا ہوگا۔
سعودی عرب کی پریشانی تو اور بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ پانی کے اوپر سے ایک راستہ بحرین کو سعودی عرب کی سلطنت سے ملا دیتا ہے۔
طاقتور سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ نایف سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ماہر نے مجھے بتایا کہ اگر بحرین میں صورتِ حال قابو سے باہر ہوگئی تو سعودی حکومت وہاں مداخلت کر دے گی۔
گالا ریانی بھی متفق ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں سعودی عرب کو بحرین کی حمایت کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور بدترین صورت میں براہِ راست سعودی مداخلت کا بھی امکان ہے اگر بحرینی حکومت مظاہرین پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی۔





















