جرمنی الیکشن: جوہری مسئلہ حاوی

جرمنی جوہری ری ایکٹر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجاپان کے زلزلے کے بعد جرمنی کے پرانے جوہری ری ایکٹروں کا معائنہ کیاگیا

جرمنی کی ریاست بوڈن ویوٹمبرف میں ہونے والی ووٹنگ میں جوہری توانائی کا مسئلہ ایک اہم موضوع ہے۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کی کرسچین ڈیمو کریٹ پارٹی 1953 کے بعد پہلی مرتبہ اس ریاست میں الیکشن ہار سکتی ہے کیونکہ گرین پارٹی لوگوں کے جوہری توانائی کے خلاف موجودہ جذبات کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو تقریباً دو لاکھ مظاہرین نے جاپان کے شہر فوکو شیما جوہری بحران کے پیشِ نظر جوہری توانائی کے خلاف مظاہرہ کیا جو جرمنی کا اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ بتایا جاتا ہے۔

جاپان ابھی تک گیارہ مارچ کے زلزلے اور سونامی سے تباہ ہونے والے فوکو شیما میں جوہری پلانٹ کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

جرمنی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن1986 میں روس میں چرنوبل کے جوہری سانحہ کے بعد سے جرمنی کے عوام میں پر جوہری توانائی کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

برلن میں پولیس کا کہنا ہے جوہری توانائی کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں توقع سے کہیں زیادہ لوگوں نے شرکت کی تھی۔

جاپان کے زلزلے کے فوراً بعد جرمنی کے پرانے ترین جوہری ری ایکٹروں کا معائنہ کیا گیا جس کے بعد جرمنی کی چانسلر انگلا مرکل نے اعلان کیا تھا کہ ان میں سے سات کو بند کردیا جائے گا۔

مظاہرے کے دوران ایک شخص کا کہنا تھا کہ ہر ایک جوہری ری ایکٹر خطرے کی علامت ہے جس میں دھماکہ بھی ہو سکتا ہے اس لیے تمام جوہری ری ایکٹروں کو بند کر دیا جانا چاہیے۔

جرمنی 1986 میں روس میں ہونے والے چرنوبل جوہری سانحہ کے اثرات جھیل چکا ہے جس کے بعد سے وہاں عوام میں بڑے پیمانے پر جوہری توانائی کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ اس وقت جرمنی کی 23 فیصد توانائی اس کے جوہری ری ایکٹروں سے حاصل ہوتی ہے۔