جاپان: فوکوشیما پر انتہائی الرٹ

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کے وزیرِ اعظم ناؤٹو کین نے کہا ہے کہ زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے فوکوشیما جوہری پلانٹ کی وجہ سے ان کی حکومت انتہائی الرٹ کی حالت میں ہے۔
حکام کے مطابق پلانٹ کے اندر مٹی میں پلوٹونیم پایا گیا ہے اور ری ایکٹر کی عمارت سے انتہائی تابکاری والا پانی لیک ہوا ہے۔
جاپانی وزیرِ اعظم نے پارلیمان کو بتایا کہ صورتِ حال کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور ان کی حکومت اسے انتہائی ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق حکومت پر فیصلے سے گریز کرنے اور غیر ضروری تاخیر کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
دریں اثناء امریکہ میں ماحولیات کے تحفظ کی ایجنسی ای پی اے نے کہا ہے کہ اس نے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں بارش کے پانی میں بھی تابکاری کے اثرات دیکھے ہیں، جو کہ فوکوشیما پلانٹ سے نکلنے والی تابکاری سے ملتے جلتے ہیں۔ تاہم اس نے کہا ہے کہ اس سے انسان صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اس سے قبل جاپان میں فوکوشیما میں زلزلے سے متاثر ہونے والے جوہری پلانٹ کے حکام نے کہا تھا کہ پہلی بار انہیں پلانٹ سے باہر تابکاری سے متاثر ہونے والا پانی ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پانی میں تابکاری کی سطح بہت زیادہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ فوری طور پر ایسے آثار نہیں ملے جن کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ تابکاری سے متاثر ہونے والا یہ پانی سمندر میں بھی گیا ہے۔ یہ سمندر کے قریب پانی خارج کرنے والی ایک سرنگ میں موجود ہے۔
ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’گرین پِیس‘ نے جاپان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوکوشیما جوہری پلانٹ کے گرد ممکنہ طور پر متاثرہ علاقے کی حد بیس کلومیٹر سے بڑھا دے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس سے دوگنا فاصلے پر ایک گاؤں میں بھی تابکاری کے اثرات ملے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار مارک ورتھنگٹن نے کہا ہے کہ جوہری پلانٹ سے باہر تابکاری سے متاثر پانی کا ملنا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ اس سے پہلے تابکاری سے متاثر ہونے والے پانی کے تالاب صرف پلانٹ کی حدود میں ملے تھے۔ اب متاثرہ پانی زیر زمین ایسی سرنگ میں ملا ہے جو مرمت کے وقت کام آتی ہے اور جس کا ایک سِرا سمندر سے صرف پچپن میٹر دور ہے۔





















