’تابکاری والے پانی کا اخراج روک دیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہAP
جاپان کے ایٹمی ری ایکٹر کے آپریٹر ٹیپکو کا کہنا ہے کہ تابکاری والے پانی کا بحرالکاہل میں اخراج کو روک دیا گیا ہے۔
ٹیپکو کا کہنا ہے کہ جہاں سے تابکاری والا پانی رِس رہا تھا وہاں سے رِسنے کو روک دیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شگاف کو بند کرنے کے لیے اس جگہ کیمیائی مواد کو اِنجیکٹ کر دیا گیا ہے۔
رواں سال گیارہ مارچ کو زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں فوکوشیما سے تابکاری والے پانی کا اخراج شروع ہو گیا تھا اور اس کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
دوسری جانب جاپان کا کہنا ہے کہ متاثرہ ایٹمی ری ایکٹروں کو لوہے کی شیٹوں سے ڈھانپنے کا کام ستمبر سے قبل شروع نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے مطابق ری ایکٹروں سے خارج ہونے والی اونچے درجے کی تابکاری کے باعث کام ابھی شروع نہیں کیا جا سکتا۔
جاپان میں زلزلے اور سونامی میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بارہ ہزار افراد ہلاک ہوئے، پندرہ ہزار ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ امدادی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔
ٹیپکو کے مطابق ری ایکٹر نمبر دو کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جو پانی استعمال کیا گیا تھا اس کے ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس پانی میں قانونی حد سے پانچ ملین گنا زیادہ تابکاری ہے۔
ری ایکٹروں سے بہنے والے پانی کو روکنے کے لیے انجینیئروں نے اخبارات اور لکڑی کے بھورے کا بھی استعمال کیا۔
ٹیپکو کو ابھی بھی ساڑھے گیارہ ہزار ٹن وہ پانی سمندر میں ڈالنا ہے جس میں تابکاری کم ہے کیونکہ یہ پانی جمع کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس پانی سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















