لیبیا میں امریکی ڈرون حملہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی بار لیبیا میں ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس حملے کی مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں تاہم امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں سے وہ شہری علاقوں میں موجود اہداف کو زیادہ آسانی سے نشانہ بنا سکیں گے، جس سے عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں کمی آئے گی۔
اس سے پہلے لیبیا کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا تھا کہ کرنل قذافی کے حامی قبائل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر فوج باغیوں کو ساحلی شہر مصراتہ سے نہیں نکال سکتی تو وہ خود یہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نائب وزیرِ خارجہ خالد قائم نے کہا کہ فوج نے کوشش کی ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں کم سے کم ہوں لیکن قبائل اس طرح نہیں کریں گے۔ تاہم باغیوں کے ایک ترجمان کے مطابق یہ سب کرنل قذافی کی ’چال‘ ہے۔
دوسری طرف نیٹو نے طرابلس پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔ لیبیا کی حکومت کے مطابق حملوں میں تین شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
طرابلس میں بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی بووین نے کہا ہے کہ سنیچر کو کرنل قذافی کے باب العزیزیہ کمپاؤنڈ کے قریب بنکر پر دو حملے کیے گئے۔
امدادی ایجنسیوں کے مطابق کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد مصراتہ شہر کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قذافی کی حکومت بالکل تنہا ہوتی جا رہی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مسئلے کا کسی قسم کا کوئی جمہوری حل نکل آئے۔
لیبیا کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قبائلیوں کی طرف سے الٹی میٹم فوج اور قبائل کے درمیان ایک میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ قبائل سخت ناراض ہیں کہ لڑائی کی وجہ سے ان کی زندگیاں اور کاروبار سخت متاثر ہو رہا ہے۔ خالد قائم کے مطابق قبائل کا کہنا ہے کہ بندرگاہ سب کے لیے ہے صرف باغیوں کے لیے نہیں۔
یاد رہے کہ مصراتہ کی بندرگاہ طرابلس کے بعد سب سے مصروف ترین بندرگاہ ہے۔
خالد قائم نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اب فوج کے سامنے ایک الٹی میٹم ہے کہ اگر وہ مصراتہ کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی تو پھر علاقے کے لوگ (اسے حل کرنے) آ جائیں گے۔‘
اس سے قبل امریکی فوج کے سینیئر اہلکار ایڈمرل مائیک مولن نے کہا تھا کہ اگرچہ نیٹو اور امریکہ نے لیبیا کی زمینی فوج کو تیس سے چالیس فیصد تباہ کر دیا ہے پھر بھی لیبیا میں جنگ ’تعطل کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘




















