لیبیا میں ڈرون استعمال کیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ لیبیا میں بھی قذافی کی فوج کے خلاف بغیر پائلٹ کےڈرون طیارے استعمال کیے جائیں گے۔
رابرٹ گیٹس نے بتایا کہ ان جاسوس طیاروں کے استعمال کی اجازت امریکی صدر باراک اوباما نے دی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف امریکی جاسوس طیارے پہلے ہی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
رابرٹ گیٹس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس چند مخصوص صلاحتیں ہیں اور وہ ان کو استعال کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مذید بتایا کہ لیبیا میں نیٹو افواج کو دو جاسوس طیارے فراہم کر دیئے گئے ہیں۔
مسٹر گیٹس نے ان خبروں کی تردید کی کہ امریکہ لیبیا میں اپنی افواج کو بھیجنا چاہتا ہے اور نیٹو افواج کو جاسوس طیاروں کی فراہمی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
امریکی جائنٹ چیفس آف سٹاف کے وائس چیئرمین جنرل جیمز کارٹ رائٹ نے کہا کہ جاسوس طیاروں کا پہلا مشن جمعرات کو لیبیا روانہ ہوا تاہم موسم کی خرابی کی وجہ سے جاسوس طیارے واپس آ گئے۔
انہوں نے کہا کہ جاسوس طیارے روایتی جیٹ طیاروں کی نسبت نچلی پروازیں کر سکتے ہیں اور وہ عرب علاقوں کے لیے موزوں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثناء اطلاعات کے مطابق لیبیا میں موجود باغیوں نے جمعرات کے روز تیونس کے قریب ایک سرحدی چوکی پر قبضہ کر لیا۔
یہ چوکی لیبیا کے گاؤں نلت اور تیونس کے گاؤں دہیبا کے درمیان واقع ہے۔
لیبیا کے دور دراز علاقوں میں صحافیوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے ان اطلاعات کی تصدیق مشکل ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لیبیا میں گزشتہ ہفتوں سے جاری لڑائی میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
لیبیا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں گلیوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مصراتہ میں موجود باغیوں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہیں کلسٹر بم ملے ہیں لیکن لیبیا کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
مصراتہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اورلاگیروین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مصراتہ میں کلسٹر بموں کو دیکھا ہے اور ڈاکڑوں نے انہیں بتایا ہےکہ ان بموں سے چند شہری بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
مصراتہ میں بدھ کے روز دو صحافی ایک مارٹرحملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک برطانوی امریکن فلم میکر ٹم ہیتھرنگٹن اور ایک امریکی فوٹو گرافر کرس ہندراس شامل ہیں۔
مصراتہ میں بدھ کے روز ایک علیحدہ آرٹلری حملے میں یوکرائن کے ایک ڈاکڑ بھی ہلاک اور اُس کی بیوی شدید زخمی ہوئیں۔
دریں اثناء لیبیا کی حکومت کے ترجمان موسیٰ ابراہیم نے کہا ہے کہ اگر غیر ملکی افواج نے مصراتہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو مصراتہ کو اُن کے لیے جہنم بنا دیا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت مصراتہ کو غیر ملکی افواج کے لیے عراق سے دس گنا زیادہ برا بنا دے گی اور اس مقصد کے لیے عام افراد کو مسلح کیا جا رہا ہے۔
مصراتہ میں زخمی ہونے والےسینکڑوں غیر ملکی ورکرز اور لیبیائی باشندے شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لیبیا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ لڑائی اور لوگوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی یہ سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ لیبیا میں فوری جنگ بندی ہو تاکہ وہاں مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے۔
امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے لیبیا کے عام شہریوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں وحشیانہ حملے قرار دیا ہے۔




















