برطانوی فوجی لیبیا جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ لیبیا میں باغیوں کے مضبوط گڑھ بن غازی میں برطانیہ اپنے فوجی اہلکار بھیجے گا۔
تاہم ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ برطانوی اہلکار کرنل قذافی کے مخالفین کو تربیت یا اسلحہ فراہم نہیں کریں گے بلکہ وہ باغیوں کو اپنی فوج کو منظم کرنے کے بارے میں صرف مشورے دیں گے۔
اس کے علاوہ برطانوی اہلکار باغی رہنماوں کے ساتھ کام کریں گے تا کہ ان کا رابطے اور رسد کا نظام بہتر ہو سکے۔
ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ لیبیا میں اتحادی افواج کی زمینی فوج بھیجنے کے بلکل مخالف ہیں۔
اس سے پہلے برطانیہ کے ایک اعلیٰ وزیر لیبیا میں لڑائی میں پھنسے ہوئے ہزاروں شہریوں کو تیزی سے امداد پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ میں ہنگامی مذاکرات کرنے گئے ہیں۔
بین الاقوامی امداد کے وزیر اینڈریو مچل ملاقات کے دوران اقوام متحدہ میں اعلیٰ سفارتکاروں اور اقوام متحدہ کے حکام سے اس موضوع پر بات کی کہ لیبیا میں امداد کی ترسیل کو بہتر کرنے کے لیے مزید کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہOther
اینڈریو مچل خاص طور پر مصراتہ میں امداد پہنچانے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو ایک ماہ سے کرنل معمر قذافی کی حامی فوج کی طرف سے حملوں کا شکار ہے۔ اتوار کو بھی اطلاعات کے مطابق مصراتہ میں راکٹوں کے حملے میں چھ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
برطانوی وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ نئی امداد مصراتہ میں پھنسے غیر ملکی مزدوروں کو نکالنے پر خرچ کی جائے گی۔ اس سے قبل لیبیا کے ساحلی شہر مصراتہ میں کرنل قذافی کی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز نے بن غازی سے خبر دی ہے کہ حالیہ چند روز میں سینکڑوں لوگ مصراتہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغی رہنماء اور شہر میں موجود ڈاکٹر وہاں کی صورتحال سے پریشان ہیں۔ مصراتہ کی آبادی تین لاکھ ہے۔
نامہ نگار نے کہا کہ لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے ارکان نے نیٹو سے کہا ہے کہ وہ کرنل قذافی کی فوج کے پاس موجود دور مار کرنے والے میزائیلوں کو نشانہ بنائیں۔
سرکاری فوج مصراتہ کو باغیوں کے قبصے سے چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ مصراتہ کو فوج نے گزشتہ دو ماہ سے گھیرے میں لیا ہوا ہے جو ملک کے مغربی حصے میں واحد علاقہ ہے جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے۔
بین الاقوامی امداد کے محکمے کے مطابق مصراتہ میں فروری سے لے کر اب تک تین سو شہری ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ اتوار کو شہر سے ایک سو خمیوں کو کشتی کے ذریعے تیونس پہنچایا گیا تھا۔
طبی مراکز میں زخمیوں کا رش ہے اور بہت سے زخمی لڑائی کی وجہ سے شہر نہیں چھوڑ سکتے۔ اقوام متحدہ کو فکر ہے کہ شہر میں پانی سے لگنی والی وبا کا خطرہ ہے۔
لیبیا میں اس سال فروری میں کرنل قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی جس کے بعد سے ملک کرنل قذافی کے حامیوں اور باغیوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔




















