قذافی کی فورسز کے خلاف مقدمہ ہو سکتا ہے

بن غازی میں مظاہرے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصرف فروری میں پانچ سو سے سات سو افراد ہلاک ہوئے ہیں

بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ قذافی کی حامی فورسز کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔

لوئس مورینو اوکامپو نے ایک رپورٹ میں کہا کہ الزامات میں قتل، غیر قانونی حراست، تشدد اور آزار پہنچانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ایک منظم طریقے سے پر امن مظاہرین پر گولیاں چلاتی رہی ہیں۔

کرنل قذافی کی فورسز گزشتہ دو مہینوں سے حکومت مخالف مظاہرین سے لڑ رہی ہے۔

اوکامپو، جن کو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، کہا ہے کہ ان کے پاس قابلِ اعتبار معلومات ہیں کہ صرف فروری میں 500 سے 700 افراد ہلاک کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں گرفتاری کے وارنٹ کی پہلی درخواست اگلے کچھ ہفتوں میں دینے والے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ جرائم کچھ اعلیٰ افسران کے کہنے پر سرزد کیے گئے ہیں۔ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ کرنل قذافی اور ان کے قریبی سرکل کے کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔