نیٹو، باغیوں نے مذاکرات مسترد کردیے

،تصویر کا ذریعہOther
نیٹو اور باغیوں نے لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے جنگ بندی اور ہوائی حملے بند کرنے کے لیے نیٹو کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے معمر قذافی نے کہا تھا کہ ان کو زبردستی ملک سے نہیں نکالا جا سکتا۔ ’امن کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ تم لوگوں نے جارحیت کی ہے۔ ہم تمہارے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ فرانس، برطانیہ، امریکہ آؤ ہم تمہارے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں۔ تم کیوں ہم پر حملے کر رہے ہو؟‘
تاہم دوسری جانب نیٹو اور باغیوں نے قذافی کی اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔
باغیوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قذافی کی یہ پیشکش قابلِ بھروسہ نہیں ہے اور یہ قذافی کی ایک چال ہے۔
قذافی نے کہا تھا کہ مشروط مذاکرات قابلِ قبول نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ نیٹو اور باغیوں کا یہ مطالبہ ہے کہ قذافی کی فوج ہتھیار پھینک دے اور قذافی جلاوطنی اختیار کریں۔
معمر قذافی نے کہا، ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ لیکن میں مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔۔۔ ہم لیبیا کی عوام آپس میں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے کا حل تلاش کر لیں گے اور ہم پر حملے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
لیبیائی رہنما کا کہنا تھا کہ لیبیا کے مشرق میں اور مصراتہ میں لیبیائی فوج سے لڑنے والے لیبیائی نہیں ہیں بلکہ یہ وہ دہشت گرد ہیں جو الجیریا، مصر، تیونس اور افغانستان سے آئے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب لیبیا کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ مصراتہ میں سمندری راستے سے مزید امدادی سامان جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہیم نے کہا کہ مصراتہ میں باغیوں کو چار روز کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر باغی لڑائی کو ترجیح دیتے ہیں تو ان کو بھرپور طاقت کا سامنا کرنا ہو گا۔
حکومتی ترجمان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو نے کہا ہے کہ لیبیا کی فوجیں مصراتہ کے ارد گرد بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نیٹو نے مزید کہا کہ یہ بارودی سرنگیں ناکارہ کی جا رہی ہیں۔
مصراتہ کی بندرگاہ باغیوں کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اسی راستے سے باغی امدادی سامان لاتے ہیں اور زخمیوں کو منتقل کرتے ہیں۔





















