’حقوقِ انسانی کی پامالی کے ثبوت ملے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی حامی فوج اور باغیوں کے مابین فروری سے جاری لڑائی میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے طرابلس پہنچنے والی اقوامِ متحدہ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے واقعات کے ثبوت ملے ہیں جن میں حقوقِ انسانی کا خیال نہیں رکھا گیا۔
تاہم اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان واقعات کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔
تین ارکان پر مشتمل اس ٹیم کا تقرر اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کونسل نے کیا ہے اور لیبیائی حکومت نے اسے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
اس ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ کرنل قذافی کی حامی فوج کے علاوہ باغیوں اور نیٹو افواج پر لگنے والے الزامات کی بھی تحقیقات کرے گی اور ایسے تمام واقعات کا جائزہ لے گی جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات سامنے آئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی اس ٹیم کے سربراہ شریف بسییونی کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے شہریوں پر بلاتخصیص بمباری، تشدد، کرائے کے قاتلوں کے استعمال اور غیر ملکی صحافیوں کو یرغمال بنائے جانے جیسے کئی سوالات ہیں۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب قذافی حکومت کی حامی فوج اور باغیوں کے درمیان ساحلی شہر مصراتہ میں لڑائی جاری ہے اور بدھ کو سرکاری فوج کی جانب سے نئے حملے کی اطلاعات ہیں۔ اس سے قبل منگل کی شام سرکاری فوج نے بندرگاہ پر میزائل پھینکے تھے جس سے تین افراد مارے گئے تھے۔
لیبیا کا تیسرا سب سے بڑا شہر مصراتہ ملک کے مغربی علاقے میں باغیوں کا اہم گڑھ ہے اور اس کی بندرگاہ پر ایسے افراد موجود ہیں جو لیبیا کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔
کرنل قدافی کی فوج نے دو ماہ سے مصراتہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور شہر میں بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔ شہر میں فسادات اور سرکاری فوج کی گولہ باری کی وجہ سے مصراتہ کے شہریوں کو خوراک اور ادویات کی قلت کا بھی سامنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیبیا کی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ سرکاری فوج مصراتہ پر بلا تخصیص گولہ باری کر رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک لڑائی میں مصراتہ میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں جنہیں کشتیوں کے ذریعے باغیوں کے گڑھ بن غازی منتقل کیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے غوروخوص کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ لیبیا میں باغیوں کی ٹرانزیشنل نیشنل کونسل ایک ایسا سیاسی دھڑا ہے جو امریکی حمایت کے قابل ہے۔ تاہم لیبیا کے لیے امریکی سفیر جینی کریٹز کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک اس گروپ کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔





















