لیبیا: امدادی جہاز پرحملہ، پانچ ہلاک

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ کشتی ایک سو اسی ٹن امدادی سامان لے کر بدھ کو مصراتہ پہنچی تھی

لیبیا کے شہر مصراتہ سے تیرہ سو افراد کو لے کر ایک بین الاقوامی امدادی بحری جہاز بن غازی پہنچ گیا ہے۔

ان تیرہ سو افراد میں زیادہ تر غیر ملکی کارکن اور ورکر شامل ہیں۔ مصراتہ سے بن غازی پہنچنے والے لوگوں نے بتایا کہ کرنل قذافی کی حامی فوج کی جانب سے شدید گولہ باری اور افراتفری میں وہ جہاز پر سوار ہوئے۔

حکومت کی حامی فورسز کی بمباری میں پانچ افراد ہلاک بھی ہو گئے تھے۔

حکومت کے حامیوں اور باغیوں میں ہونے والی لڑائی میں زخمی ہونے والے کئی لیبیائی باشندے بھی اس کشتی میں سوار تھے۔

مصراتہ سے باقی دنیا کے رابطے کا فی الوقت یہ جہاز واحد ذریعہ ہے۔

مصراتہ کی بندرگاہ پر ہونے والی بمباری کی وجہ سے اس امدادی جہاز کو لنگر انداز ہونے کے لیے متعدد بار کوشش کرنا پڑی۔

مصراتہ میں موجود عینی شاہدین کے مطابق ’دی ریڈ سٹار ون‘ نامی امدادی جہاز پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق اس حملے کے بعد امدادی جہاز میں سوار ہونے کی کوشش کرنے والے افراد میں افراتفری پھیل گئی۔

باغی ذرائع کا کہنا ہے کہ افراتفری کے دوران بن غازی جانے والی امدادی جہاز میں تقریباً دو سو افراد سوار نہیں ہو سکے۔

پناہ گزینوں کی بین الاقوامی تنظیم نے ’دی ریڈ سٹار ون‘ نامی جہاز کو مصراتہ جانے کے لیے بک کیا تھا تاہم مصراتہ میں جاری شدید لڑائی کی وجہ سے اُس کی راونگی میں کئی دنوں کی تاخیر ہوئی۔

یہ کشتی ایک سو اسی ٹن امدادی سامان لے کر بدھ کو مصراتہ پہنچی تھی۔

پناہ گزینوں کی بین الاقوامی تنظیم کے ایک اہلکار اوتھمین بیلبیسی کے مطابق جیسے ہی وہ اور دیگر افراد جہاز سے اترے راکٹ حملہ ہو گیا۔

اُن کےمطابق لوگ اپنی اپنی جان بچانے کے لیے چاروں اطراف بھاگنا شروع ہو گئے۔

باغیوں کے ترجمان گیمال سلیم نے خبر رساں ادارے رائٹرزکو بتایا کہ بمباری سے بہت سے افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں لیبیائی اور دیگر باشندے شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق اب تک پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایمبولینس جائے وقوعہ کی جانب جا رہی ہیں۔

باغیوں کے ایک اور ترجمان عبدل سلام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے پانچ افریقی مہاجرین تھے تاہم اس بات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ منگل کو ایک سینئر لیبیائی اہلکار نے دھمکی دی تھی کہ لیبیائی فوج مصراتہ جانے والے راستوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کارروائی کرے گی۔

لیبیا کے رہنما کرنل قذافی کی افواج گزشتہ کئی ہفتوں سے مصراتہ پربمباری کر رہی ہیں۔