لیبیا کےباغی حکومت نہیں:امریکہ

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمحمود جبریل نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی حکام سے ملاقات کی تھی

امریکہ نے لیبیا میں باغیوں کی طرف سے بنائی گئی قومی عبوری کونسل کو لیبیا کی مذاکرات کار کے طور پر تسلیم کر لیا ہے لیکن اسے ملک کی قانونی حکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ لیبیا کی عبوری کونسل کے سینئیر رکن کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ لیبیا کی عبوری کونسل بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے رہنما محمود جبریل نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی حکام سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں امریکی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر ٹام ڈونیلون بھی شامل تھے۔ ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ڈونیلون نے جبریل کو بتایا کہ امریکہ لیبیا کی قومی عبوری کونسل کو لیبیائی عوام کے مذاکرات کار کے طور پر دیکھتا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے فرانس، اٹلی اور قطر کی طرح لیبیا کی قومی عبوری کونسل کو لیبیا کی حکومت کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کار نےجمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایسا اقدام قبل از وقت ہو گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ لیبیا کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنی حکومت کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔

جے کارنے کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کانگریس کے ساتھ مل کر یہ کوشش کر رہی کہ لیبیا کے منجمد کیے جانے والے تیس ملین ڈالر میں سے کچھ رقم کو باغیوں کی امداد کے لیے قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔

دوسری جانب جمعہ کی رات اور سنیچر کی صبح لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں چھ دھماکے سنے گئے تھے۔

ان دھماکوں کے بعد لیبیا کے رہنما کرنل قذافی نے اپنے ایک صوتی پیغام کے ذریعے ملک میں موجود نیٹو افواج پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی جگہ پر موجود ہیں جہاں اُن تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔

اپنے پیغام میں کرنل قذافی نے اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اُن کے ساتھ ہمدری کا اظہار کیا تھا۔ قذافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیٹو افواج انہیں ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ لاکھوں لیبیائی باشندوں کے دلوں میں بستے ہیں۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح اٹلی کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ کرنل قذافی جمعرات کو ہونے والی بمباری میں زخمی ہونے کے بعد طرابلس سے فرار ہو گئے تھے۔