یمن: امریکی سفارت کاروں کی واپسی

یمن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیمن خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے:صالح عبداللہ

یمن میں لڑائی شدید ہونے کے پیشِ نظر امریکہ نے یمن میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا ہے۔

یمن کے سرکاری فوجی دستوں اور قبائلی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی میں پیر سے اب تک کم از کم 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے سفارتخانے کے سرکاری عملے کے زیادہ تر اہلکاروں اور ان کے افرادِ خانہ کو یمن سے نکل آنے کا حکم دیا ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ امریکی شہری جلد از جلد یمن سے نکل آئیں کیونکہ ابھی کمرشیل ٹرانسپورٹ دستیاب ہے۔سرکاری فوجی دستوں سے کئی دن کی لڑائی کے بعد یمن کے طاقتور قبائلی گروپ’ہاشد‘ نے دارالحکومت ثناء میں کئی سرکاری عمارتوں پر کنٹرول کر لیا ہے۔

بدھ کو ثناء کا ہوائی اڈہ بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن نہ جائیں۔

عالمی سطح پر بڑھتے دباؤ کے باوجود بھی صدر علی عبداللہ صالح نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ نہ تواقتدار چھوڑیں گے اور نہ ہی یمن۔

صدر صالح اقتدار کی منتقلی سے متعلق معاہدے پر بھی دستخط کرنے سے انکار کر رہے ہیں جس کے تحت انہیں اتحادی حکومت سے استعفی دینا ہوگا۔

یمنی صدر نے خبردار کیا ہے کہ یمن خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

بدھ کو امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ صدر صالح اقتدار کی منتقلی کے اپنے وعدے کو فوری طور پر پورا کریں۔

اقوامِ متحدہ کے سیریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ انہیں یمن میں جاری تشدد سے’بہت تشویش‘ ہے۔ انہوں نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا پر امن حل تلاش کریں۔

صدر علی عبداللہ صالح نے کہا تھا کہ اقتدار کی منتقلی آئینی طریقے سے ہوگی اور اقتدار مظاہرین کےحوالے نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرین جن میں القاعدہ بھی سرایت کر چکی ہے اقتدار پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں۔