تیونس سے لیبیا میں ہتھیاروں کی سمگلنگ

باغی جنگجو انفرادی طور پر اے کے 47 بندوقین اور گرینیڈ لانچر تیونس کی سرحد سے لیبیا میں لے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنباغی جنگجو انفرادی طور پر اے کے 47 بندوقین اور گرینیڈ لانچر تیونس کی سرحد سے لیبیا میں لے جا رہے ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ قذافی مخالف باغی جنگجو سرکاری فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیونس کے راستے ہتھیار سمگل کر رہے ہیں۔

لیبیا کے ایک سمگلر نے بی بی سی کے نامہ نگار پاسکل ہارٹر کو بتایا کہ باغی جنگجو انفرادی طور پر اے کے 47 بندوقین اور گرینیڈ لانچر تیونس کی سرحد سے لیبیا میں لے جا رہے ہیں۔

صدر قذافی کی وفادار فورسز بھی تیونس کی سرحد پر موجود ہیں اور ان کی باغیوں سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

تیونس کے سابق صدر بن علی کے بعد برسراقتدار آنے والی کمزور عبوری حکومت کھل کر باغیوں کی حمایت کرنے سے ڈر رہی ہے۔

تیونس کی سرحد پر تعینات محافظوں کو احکامات دیئے گئے ہیں کہ وہ لیبیا میں جانے والی ہر کار کی تلاشی لیں۔

تاہم لیبیا کے سمگلر نے شناخت ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بیرونِ ملک رہنے والے لیبیائی شہری چھوٹا اسلحہ خرید کر مغربی لیبیا میں بھیجنے کے لیے رقوم مہیا کر رہے ہیں۔

لیبیائی سمگلر کے مطابق تیونس کے بہت سے شہری باغیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ان تک ہتھیار پہنچانے میں مدد کر رہے ہیں۔

مغربی لیبیا میں ایک باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز ہر جنگجو کے کوائف اور اس کے اسلحے کا سیرئیل نمبر درج کر رہے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے پر ان سے یہ اسلحہ جمع کیا جا سکے۔

کمانڈر اہبیل نے نیٹو ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھاری ہتھیار سرکاری طور پر تیونس کے راستے بھیجیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نفوسہ کی پہاڑیوں میں اسلحہ اور گولا بارود کی کمی کی وجہ سے لڑائی طول پکڑ رہی ہے۔