لیبیا میں اپاچی ہیلی کاپٹروں کا استعمال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نیٹو حکام نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا میں پہلی بار برطانوی اپاچی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
برطانوی بحری بیڑے اوشن کے کپتان نے بی بی سی کو بتایا کہ دو برطانوی ہیلی کاپٹروں نے لیبیا میں دو فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کے علاوہ ایک ریڈار سائیٹ اور ایک چیک پوائنٹ کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ فرانس کے غزالی ہیلی کاپٹروں نے بھی پہلی بار لیبیا میں موجود مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ ہرمیجسٹیز سروس اوشن کے کپتان نے بتایا کہ دو برطانوی اپاچی ہیلی کاپٹروں نے اپنے ٹارگٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا جس کے بعد وہ بحری بیڑے پر واپس پہنچ گئے۔
آپریشن یونیفائیڈ پروٹیکٹر کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل چارلس بوچرڈ کا کہنا ہے کہ برطانوی اپاچی ہیلی کاپٹروں کا کامیاب آپریشن اُن کی بے مثال صلاحیتیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ان ہیلی کاپٹروں کو جب اور جہاں چاہیں گے اپنے تمام مشنز کے لیے استعمال کریں گے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اپاچی ہیلی کاپٹروں نے لیبیا میں جاری نیٹو کے یونیفائیڈ پروٹیکٹر آپریشن میں حصہ لیا جس کا مقصد اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد انیس سو تہتر کے تحت لیبیا کے عام افراد کی حفاظت کرنا ہے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق حملے میں حصہ لینے والے تمام جہاز ہر میجسٹیز سروس اوشن میں بحفاظت پہنچ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق اس آپریشن کی پوری تفصیلات مناسب وقت پر جاری کر دی جائیں گی۔
واضح رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ستائیس مئی کو چار اپاچی ہیلی کاپٹروں کو لیبیا بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان ہیلی کاپٹروں کو ہر میجسٹیز سروس اوشن کے ذریعے تعینات کرنے کا مقصد آپریشن کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم کرنا تھا۔
اپاچی ہیلی کاپڑز نچلی پرواز کرتے ہیں اور لبییا کے رہنما کرنل قذافی کی افواج جس کے پاس زمین سے فضا تک مارک کرنے والے میزائل ہیں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
نیٹو افواج نے اقوامِ متحدہ کی قرار دار پاس ہونے کے بعد لیبیا کے عام شہریوں کی حفاظت کے لیے لیبیا میں آپریشن یونیفائیڈ پروٹیکٹر آپریشن شروع کیا تھا۔
دوسری جانب نیٹو نے بدھ کے روز لیبیا میں اپنی موجودگی کو نوے دنوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔




















