مہنگی جنگ کی جگہ ڈرون حملے

ڈرون(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشن’بھاری نفری بھیجنے کی بجائے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا‘

امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں عراق اور افغانستان جیسی مہنگی جنگوں کے بجائے مزید ڈرون حملوں اور خصوصی فورسز کی چھاپہ مار کارروائیوں میں اضافہ کرے گا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکہ نے اپنی اس نئی حکمت عملی کا اعلان پاکستان کے اندر اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی کامیاب امریکی کارروائی اور صدر براک اوباما کی جانب سے اس سال کے وسط میں افغانستان سے فوجوں کی واپسی شروع کرنے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں انسداد دہشتگردی کے شعبے کے سربراہ جان برینن نے کہا کہ نئی حکمت عملی میں امریکہ کے اندر دہشتگردی اور القاعدہ کی جانب سے دہشتگردوں کو بھرتی کرکے امریکہ پر حملے کرنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کا اعتراف کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت زیادہ رقم امریکہ کے اندر دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے پر خرچ کی جائے گی اور بیرون ملک امریکی فوج کی بھاری نفری بھیجنے کی بجائے اُن علاقوں میں باریکی سے کارروائیاں کی جائیں گی جہاں امریکہ کے لیے خطرات موجود ہیں۔