برطانیہ فون ہیکنگ: سابق ایڈیٹرگرفتار

ربیکا برکس

،تصویر کا ذریعہPA

نیوز انٹرنیشنل کی سابق چیف ایگزیکٹو ربیکا بروکس کو فون ہیکنگ کی تحقیقات کرنے والی پولیس نےگرفتار کر لیا ہے۔

تینتالیس سالہ ربیکا کو اتوار کے روز لندن پولیس نے گرفتار کیا۔ انہیں فون ہیکنگ کی منصوبہ بندی اور بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فون ہیکنگ کے سکینڈل میں ربیکا پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا جس کے نتیجے میں جمعہ کو انہوں نے نیوز انٹرنیشنل میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

محترمہ ربیکا بروکس دو ہزار دو سے دو ہزار تین کے درمیان اس اخبار کی مدیر تھیں اور اسی دوران سکول کی ایک لڑکی ملی ڈاؤلر کا فون ہیک کیا گیا جب وہ لاپتہ تھیں انہیں گمشدگی کے دوران قتل کردیا گیا تھا۔

بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ربیکا کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے گرفتار ہونے والی خاتون کا نام ظاہر کرنے کا انکار کر دیا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نیوز انٹرنیشنل کو اس وقت اس بات کا علم نہیں تھا کہ محترمہ ربیکا کو گرفتار کیا جائے گا جب گزشتہ منگل اور بدھ کو کمپنی میں ان کے استعفے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا تھا۔

ربیکا بروکس کے ترجمان نے بتایا کہ میٹرو پولیٹن پولیس نے جمعہ کو انہیں بتا دیا تھا کہ انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

فون ہیکنگ کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی جانب سے یہ اب تک کی دسویں گرفتاری ہے۔

محترمہ بروکس کومنگل کوبرطانوی دارالعوام کی کلچر اور میڈیا سے متعلق سلیکٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا۔

ربیکا روپرٹ مردوک کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروپرٹ مردوک کو بھی سلیکٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہے

نیوز کارپوریشن کے چیئرمین رپرٹ مرڈوک اور ان کے بیٹے جیمز مرڈوک بھی اس سلیکٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونگے۔

برطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ سکینڈل سامنے آنے کے بعد ایک سو اڑسٹھ سال سے شائع ہونے والا ہفت روزہ ’نیوز آف دی ورلڈ‘ بند ہو چکا ہے اور گزشتہ اتوار کو اس کا آخری شمارہ شائع ہوا۔

اخبار نیوز آف دی ورلڈ پر جرائم کا شکار ہونے والے افراد، مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کے فون ہیک کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے اب تک ایسے چار ہزار ناموں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر فون ہیکنگ کا نشانہ بنے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ سکول جانے والی مقتول لڑکی ملی ڈاؤلر کے موبائل فون اور چھ سال قبل سات جولائی کو لندن میں ہوئے خودکش بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے موبائل فونز کو ہیک کرنے کے لیے اخبار کی انتظامیہ نے باقاعدہ اجازت دی تھی۔