ناروے سوگوار،’حملے آندرے کا انفرادی فعل‘

بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی چرچ میں جا کر ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی چرچ میں جا کر ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا

ناروے میں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کو جزیرہ یٹویا میں یوتھ کیمپ پر فائرنگ اور دارالحکومت اوسلو میں بم دھماکے کے ملزم آندرے بیرنگ بریوک کا کہنا ہے کہ یہ ان کا انفرادی فعل تھا۔

ان حملوں میں اب تک کم از کم بانوے افراد کی ہلاکت اور ستانوے کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر ناروے کے بیشتر شہروں میں ہلاک شدگان کی یاد میں تعزیتی اور دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے ہیں۔

<link type="page"><caption> آندرے بیرنگ بریوک کون تھا؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/07/110723_noway_suspect_profile_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> سوگوار ناروے، تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/07/110724_norway_mourn_pics_nj.shtml" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ چھوٹی آبدوزوں کی مدد سے ان افراد کو تلاش کر رہے ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ گولیوں کی بوچھاڑ سے بچنے کے لیے سمندر میں کود گئے مگر تیر کر ساحل تک نہ پہنچ سکے۔

بتیس سالہ آندریے بریوک کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں پیر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جو انہیں حراست میں رکھے جانے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

نارویجن پولیس کے مطابق جمعہ کو حملوں سے قبل آندرے بریوک نے انٹرنیٹ پر پندرہ سو صفحات پر مشتمل ایک مسودہ شائع کیا تھا جس میں اس نے اپنے عزائم کا اظہار کیا تھا۔ اس مسودے میں اس کا کہنا تھا کہ یورپ میں کثیر الثقافی رحجان نے قومی حمیت کو کمزور کیا ہے اور اس کی وجہ بقول بریوک کے یورپ میں اسلامی نوآبادیات کا قیام ہے۔

اس سے پہلے ناروے میں آندرے بیرنگ بریوک کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے مؤکل نے اپنی حرکت کو ’وحشیانہ‘ مگر ’ضروری‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بریوک یورپی باشندوں کو اپنے ورثے کو دھوکہ دینے کی سزا دینا چاہتا تھا۔

یٹویا میں ان افراد کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سمندر میں ڈوب گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیٹویا میں ان افراد کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سمندر میں ڈوب گئے ہیں

اوسلو میں پولیس کے قائم مقام سربراہ سویننگ سپونہیم کا کہنا ہے کہ ’اس نے دھماکے اور فائرنگ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے لیکن وہ اسے مجرمانہ فعل ماننے پر تیار نہیں‘۔

پولیس کے سربراہ کے مطابق ’اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کا انفرادی فعل تھا لیکن پولیس ہر اس چیز کی تصدیق کرے گی جو اس نے کہی ہے۔ فائرنگ کے وقت جزیرے پر موجود کچھ عینی شاہدین کے بیانات نے ہمیں مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ آیا حملہ آور ایک تھا یا زیادہ‘۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو اس معاملے میں اس وقت کسی اور فرد کی تلاش نہیں تاہم وہ اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کر سکتے کہ حملہ آور کو مدد حاصل تھی۔

پولیس نے اب تک دہشت گردی کے پیچھے کارفرما سوچ کے بارے میں نہیں بتایا ہے لیکن اوسلو میں جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کا تعلق ناروے کی حکمران جماعت لیبر پارٹی سے ہے اور نوجوانوں کا کیمپ بھی اسی جماعت کے زیر انتظام قائم تھا۔

تعزیتی تقاریب

دریں اثناء ان واقعات میں مارے جانے والے افراد کی یاد میں ناروے بھر میں تعزیتی تقاریب منعقد ہوئی ہیں۔

دعائیہ تقاریب میں بڑی تعداد میں عام لوگ بھی شریک ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندعائیہ تقاریب میں بڑی تعداد میں عام لوگ بھی شریک ہوئے

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم اور ان کی اہلیہ ملکہ سونجا نے اوسلو کے لوتھرن گرجا گھر میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ ناروے کے وزیراعظم ہانز سٹولٹن برگ بھی تقریب میں شریک ہوئے اور انہوں نے ہلاک شدگان کی یاد میں گرجا گھر کے باہر پھول بھی رکھے۔

تقریب میں بڑی تعداد میں عام لوگ اور سوگوار بھی شریک تھے۔ شہر میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن اوناس کے مطابق بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی چرچ میں جا کر ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

ان میں ایک علی نامی شخص نے بتایا کہ ’بہت سارے افراد کا شروع میں یہ خیال تھا کہ بم دھماکہ میں القاعدہ ملوث ہے، ناروے ایک ایسا ملک ہے جو ہر کسی کو قبول کرتا ہے اور ہر کسی کو خوش آمدید کہتا ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ ایک نارویجن نے یہ کام کیا ہے تو مجھے دھچکا لگا، وہ نفرت سے لبریز تھا۔‘

واضح رہے کہ جمعہ کو جزیرے یٹویا میں حکمران جماعت لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں فائرنگ کے واقعہ میں پچاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ اوسلو میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آندرے بیرنگ بریوک ایک انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامی فرد ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنآندرے بیرنگ بریوک ایک انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامی فرد ہیں

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بم دھماکے کے نتیجے میں متاثر ہونے والی عمارتوں میں متاثرین کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی جا سکی ہیں کیونکہ ابھی تک عمارتیں بم دھماکے سے پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق آندرے بیرنگ بریوک ایک انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے حامی فرد ہیں۔ آندرے بیرنگ بریوک کی ان سے منسوب ایک وڈیو سے حاصل کی گئی تصویر اور وڈیو سنیچر کو یو ٹیوب سے ہٹا لی گئی تھی۔

ناروے کے ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ وڈیو بریوک نے بنائی تھی جس میں اسلام، مارکسزم اور کثیر الثقافتی معاشرے کے خلاف غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔