علاقہ کلیئر ہوگیا !

وزیرستان
،تصویر کا کیپشنمقامی انتظامیہ کے بقول ستر فیصد علاقہ کلیئر ہوگیا ہے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

علاقہ کلیئر کروانا ایک ایسی فوجی اصطلاح ہے جو روایتی مدِ مقابل سے روائتی انداز کی جنگ میں استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے پاکستانی فوج نے بھارتی فوج سے رن آف کچھ کا علاقہ کلیئر کروالیا یا بھارتی دستوں نے پاکستانی دستوں سے کرگل سے متصل پہاڑی چوٹیاں کلیئر کروا لیں۔ آپ ایک باقاعدہ فوجی دستے کو تو کسی علاقے سے پسپا کرکے وہاں اپنا دستہ بٹھا سکتے ہیں لیکن جب آپ ایک غیر روایتی حریف سے غیر روایتی چھاپہ مار لڑائی میں الجھے ہوئے ہوں تو علاقہ کلیئر کروانا کوئی بہت بڑی خوشخبری نہیں ہوسکتی۔

چھاپہ مار یا گوریلا آپ کو للکار کر یا آمنے سامنےمورچے کھود کر نہیں لڑتا۔ وہ تو اس مکھی کی طرح ہوتا ہے جو کبھی ناک پر حملہ آور ہوتی ہے۔ آپ اسے ہشت کردیں تو کان پر بیٹھ جائے گی۔ کان سے اڑا دیں تو گردن پر چلنا شروع کردے گی۔ تو کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے مکھی سے اپنی ناک کلیئر کروالی ہے۔ اب کان کلیئر کرواؤں گا اور پھر گردن کو دیکھوں گا ؟؟ اگر چھاپہ ماروں کا مقابلہ آپ نے روایتی انداز اور سوچ سے کرنے کی کوشش جاری رکھی تو کیا ہوگا؟ یہی نا کہ آپ اپنا منہ، ماتھا اور گردن پیٹ پیٹ کر لال کرلیں گے اور مکھی پھر بھی آپ کے اوپر ہی منڈلاتی رہے گی۔

پچھلے دو ہفتے سےجنوبی وزیرستان میں ’آپریشن راہِ نجات‘ جاری ہے۔ محکمہ داخلہ، صوبہ سرحد انتظامیہ اور فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے اندازوں کا اوسط یہ بنتا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ پناہ گزینوں کے نکلنے کے بعد علاقے میں حکیم اللہ محسود اور ان کے ہمنواؤں کے زیرِ کمان دس ہزار کے لگ بھگ طالبانی لڑاکے موجود ہیں اور ان میں بھی ڈیڑھ ہزار ازبک اور پانچ سو کے لگ بھگ عرب جنگجو اور کچھ پنجابی طالبان ہیں۔ اور زیادہ تر مزاحمت انہیں ازبکوں، عربوں اور پنجابیوں کی طرف سے ہے۔ اب تک مقامی انتظامیہ کے بقول ستر فیصد علاقہ کلیئر ہوگیا ہے۔لیکن تاحال ہلاک ہونے والے طالبان اور غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد محض تین ساڑھے تین سو کے لگ بھگ ہے۔

وزیرستان
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے طالبان اور غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد محض ساڑھے تین سو کے لگ بھگ ہے

حکومت اور فوجی ذرائع کہتے ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے طالبان کو تین طرف سے گھیرے میں لیا گیا ہے۔ چوتھی سمت چونکہ افغانستان کی طرف شوال کے پہاڑوں کے ذریعے کھلتی ہے۔ لہذا اگر طالبان بڑی تعداد میں فرار ہورہے ہیں تو منطقی اعتبار سے اسی سمت سے فرار ہورہے ہوں گے۔ لیکن سرحد پار افغان، امریکی اور اتحادی حکام تاحال اس کی تصدیق کرنے سے معذور یا گریزاں ہیں۔ جبکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی یہ نہیں بتا پا رہی کہ دس ہزار میں سے بچ جانے والے نوہزار چھ سو پچاس جنگجو گرفتار ہیں، فرار ہیں یا گھیرے میں ہیں یا ان میں سے بڑی تعداد تین ماہ تک ڈھنڈورا پیٹ کر ہونے والے آپریشن سے پہلے ہی غتر بود ہوگئی؟

اگر آپ کا مقصد طالبان جنگجوؤں کا جسمانی صفایا اور ان کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ ہے تو پھر اس کے لیے کاؤنٹر ٹیرر ازم کے عسکری ، سیاسی اور سماجی اصولوں کا سائنسی استعمال کرنا پڑے گا۔ لیکن آپ کے نزدیک اگر کامیابی کا معیار یہی ہے کہ طالبان چھاپہ ماروں سے علاقہ کلیئر کروالیا جائے تو موجودہ آپریشن بھی غالباً اسی طرح کامیاب رہے گا جیسے وزیرستان میں فقیر اپی کے آپریشن سے لے کر اب تک ہوتا رہا۔ جیسے مارچ انیس سو اکہتر میں مکتی باہنی سے ایک ماہ کے اندر پورا مشرقی پاکستان کلیئر کروالیا گیا تھا۔

یا جیسے نپولین نے روس میں گھس کر ماسکو تک ایک ہزار میل کا علاقہ روسیوں سے کلیئر کروالیا تھا۔ یا امریکی فوجوں نے انیس سو چونسٹھ میں اپنی آمد کے صرف چھ ماہ کے اندر پورے جنوبی ویتنام کو ویت کانگ گوریلوں سے کلیئر کروالیا تھا۔ یا سوویت فوجوں نے دسمبر انیس سو اناسی میں افغانستان میں اترنے کے دو ہفتے کے اندر اندر افغاستان کے تمام اہم مقامات پر قبضہ کرلیا تھا۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس کے بعد آپ نے ہی ان روسیوں کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا اور کروایا !!!