جیکسن کے ڈاکٹر کا موبائل ضبط

پولیس نے مائیکل جیکسن کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں ڈاکٹر کونرڈ مرے کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کا موبائل فون اور کمپیوٹر ہارڈ ویئر ضبط کر لیا ہے۔
ڈاکٹر کے وکیل ایڈورڈ شیرنوف کا کہنا ہے کہ حکام پاپ سٹار مائیکل جیکسن کے میڈیکل ریکارڈ کی تلاش میں تھے۔ وکیل نے مزید کہا کہ تفتیشی افسروں کے پاس وارنٹ تھا جو تفتیش کرنے والوں کو مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لینے کا اختیار دیتا ہے۔‘
کہا جا رہا ہے کہ حکام اپنی تفتیش میں اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ مائیکل جیکسن کی کی موت درد کش ادویات کے نتیجے میں ہوئی جبکہ مسٹر شیرنوف جیکسن کی موت کے چند دن بعد اس امکان کو رد کر چکے ہیں کہ ان کے مؤکل نے جیکسن کو ایسی ادویات تجویز کیں جو ان کی موت کا باعث بنی۔
وکیل کا کہنا تھا کہ تلاشی کے دوران ڈاکٹر مرے اپنے گھر میں موجود تھے اور ان کی مدد کر رہے تھے۔
تفتیشی افسروں کی یہ ایک ہفتے کے اندر دوسری کارروائی ہے۔اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی پولیس نے ان کے کلینک اور ان کی طرف سے کرایے پر لی گئی ایک اور عمارت پر ’چھاپہ‘ مارا تھا۔
مائیکل جیکسن کے ذاتی معالج ڈاکٹر مرے کے بارے میں پولیس نے پہلے کہا تھا کہ وہ جیکسن کی موت کے حوالے سے مشتبہ شخص نہیں ہیں۔
جس وقت مائیکل جیکسن کی موت ہوئی اس وقت ڈاکٹر مرے ان کے پاس موجود تھے اور انہوں نے مائیکل جیکسن کو بچانے کی کوشش کی۔
پولیس نے دو بار ان کا انٹرویو لیا ہے۔ تفتیش کاروں نے میڈیکل ریکارڈ بھی مانگے ہیں۔ پہلے ہی ڈاکٹر مرے پولیس کو مطلوبہ چیزیں فراہم کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے ابھی تک نہ تو ڈاکٹر کونرڈ مرے کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی فرد جرم عائد کی ہے۔





















