بالی وڈ ڈائری: رنبیر بنے چارلی چپلن
- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ماضی سے چھٹکارا

ماضی کی یادوں سے چھٹکارا آسان نہیں ہوتا لیکن اسے منظر عام پر لانا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ اتنی طویل تمہید اس لیے کیونکہ سدا بہار بالی وڈ حسینہ ریکھا نے ایسے ہی ایک پروگرام ’راز پچھلے جنم کا‘ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔
پروگرام کے پروڈیوسرز نے ریکھا کو منانے کی بہت کوشش کی انہیں منہ مانگی قیمت کی بھی پیشکش کی لیکن ریکھا نے کہا کہ میرا ماضی بہت سے تنازعات سے گھرا ہوا تھا اس لیے وہ اپنی زندگی کا کوئی بھی حصہ اب منظر عام پر لانا نہیں چاہتی ہیں۔ ریکھا جن کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ وہ کسی دور میں ونود مہرہ اور امیتابھ بچن سے بہت قریب رہ چکی ہیں اور ان کے پیار و محبت کی داستانیں زبان زد عام تھیں۔ اس پروگرام میں سشمیتا سین اور شیکھر کپور نے شرکت کے لیے حامی بھر لی ہے۔
قطرینہ کی ’مرسی‘

قطرینہ کیف کو بہت سے ٹی وی شو کرنے ہیں اور وہ ایسے کئی پروڈیوسرز کی تلاش میں ہیں جو انہیں چند ٹی وی شو دے سکیں۔ ہم نے سنا تو حیرت ہوئی اس وقت فلم انڈسٹری کی ٹاپ ہیروئین میں شمار کی جانے والی قطرینہ کو آخر ٹی وی شوز کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہ فلموں سے ہی اچھا خاصا کما لیتی ہیں۔ پتہ چلا کہ قطرینہ اپنی والدہ کی مدد کرنا چاہتی ہیں جو چنئی میں غریبوں کے لیے ایک گھر ’مرسی ہوم‘ چلاتی ہیں۔ اب قطرینہ نے سلمان کے شو ’دس کا دم‘ میں دس لاکھ روپے جیتے اور ان روپوں سے مرسی ہوم کے لیے ایک ایمبولینس خرید لی۔ بے بی ہمیں یقین ہے کہ ٹی وی پرڈیوسرز نے آپ کی اس خواہش کو سن لیا ہو گا اور بہت جلد آپ کے گھر کے باہر ان کی قطار ہو گی۔
حسن جہانگیر کی ضد
پاکستانی گلوکار حسن جہانگیر نے دو دہائیوں قبل ایک گیت گایا تھا ’ہوا ہوا‘ اور وہ آج بھی کتنا مقبول ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یش چوپڑہ فلمز سمیت دو فلمسازوں نے ان سے ان کے اس گیت کے حقوق خریدنے کی بات کی ہے۔ یش چوپڑہ اپنی فلم ’راکٹ سنگھ‘ میں جس کے ہیرو رنبیر کپور ہیں اس گیت کو لینا چاہتے ہیں لیکن حسن اس بات پر بضد ہیں کہ گیت کو جدید موسیقی میں وہ اپنی آواز میں دوبارہ گائیں گے ورنہ وہ اس کے حقوق کسی کو نہیں دیں گے۔
نیل کا انداز

نیل نتن مکیش کام کے تئیں اتنے سنجیدہ ہو سکتے ہیں کہ تین دنوں تک بغیر نہائے رہ جائیں!! نیل مدھر بھنڈارکر کی فلم ’جیل‘ میں ہیرو ہیں۔ جیل کا ہیرو یعنی قیدی۔ نیل نے اپنے کردار کو صحیح طور پر محسوس کرنے کے لیے ایک ہفتے تک کسی سے بات چیت نہیں کی اور نہ کسی کا فون سنا، تین دن تک غسل نہیں کیا اور تو اور چہرے پر کرب نظر آئے اس لیے سیٹ پر انہیں ان کے دوستوں نے ان کی پٹائی تک کی۔۔۔۔۔۔ارے یارو، کردار کی گہرائی کے لیے باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن یہ کس نے کہا کہ قیدی نہاتے نہیں ہیں؟
ہفتے کی چھٹی
اب بالی وڈ سٹارز اور لوگوں کی طرح مزدور تو نہیں ہیں کہ انہیں ہفتے میں ایک دن کی چھٹی ملے۔ ویسے بھی وہ انڈیا سے لندن ، امریکہ ، وہاں سے سوئٹزرلینڈ تو کبھی جرمنی جاتے ہوئے ذہنی طور پر فریش ہو جاتے ہیں تو انہیں ایک دن کی چھٹی کی کیا ضرورت؟ پرینکا نے بھی یہی کہا اپنی ماں سے لیکن پرینکا کی ایک نہیں سنی گئی۔ دراصل پرینکا بیک وقت کئی فلمیں کر رہی تھیں سخت ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ مستقل بیمار بھی رہنے لگی تھیں او انہیں ہسپتال میں بھی داخل ہونا پڑا تھا۔ بیٹی کی گرتی صحت سے پریشان ماں نے اب پرینکا کو اتوار کے روز کام کرنے سے منع کر دیا ہے۔
رنبیر بنے چارلی چپلن

پرینکا نے ایک ہی فلم میں بارہ رول کیے۔ اب رنبیر کپور اپنی فلم ’عجب پریم کی غضب کہانی‘ میں آٹھ کردار نبھائیں گے ( یہ چلن کیوں چلا ہے پتہ نہیں ) خیر اس فلم میں رنبیر اور کرداروں کے علاوہ چارلی چپلن بنے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اسی انداز میں مونچھیں لگائی ہیں اور آنکھوں میں کاجل بھی۔ لیکن کیا وہ چارلی کا جادو بھی جگانے میں کامیاب ہوں گے ؟؟
لندن میں لندن ڈریمز

لندن ڈریمز کی ٹیم اپنی فلم کی تشہیر کے لیے ممبئی نہیں بلکہ دنیا کےمختلف کونوں میں پروگرام کر رہی ہے۔ ستائیس اکتوبر کو دبئی کے گرینڈ سنے پلیکس میں اس فلم کا پریمئیر رکھا گیا ہے۔ فلم کے سارے کردار ریڈ کارپٹ پر موجود ہوں گے اور فلم دیر رات شروع ہو گی۔ اس کے بعد یہ ٹیم سیدھے لندن پہنچے گی جہاں ایکسل ایرینا میں سلمان خان، اجے دیوگن سمیت اس فلم کے تمام ستارے شو کریں گے۔ فلم انتیس نومبر کو لندن اور خیلجی ممالک میں نمائش کے لیے پیش کر دی جائے گی البتہ امریکہ سمیت دیگر ممالک میں فلم تیس نومبر کو ریلیز ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانی میں گزارش
سنجے لیلا بھنسالی کا غصہ کبھی کبھی سر چڑھ کر بولتا ہے ان کے غصہ سے ان کا سٹاف ہی نہیں اکثر اداکار بھی ڈر جاتے ہیں۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کا کیا کہ اگر وہ اپنا غصہ فلم کی سکرپٹ پر ہی اتار دیں! ہمارے خبری نے ہمیں بتایا کہ گوا کے ساحل پر بھنسالی اپنی فلم ' گزارش ' کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ ان کے معاون ہدایت کار نے وہی غلطی دُہرا دی جس کے لیے انہوں نے منع کیا تھا بس کیا تھا بھنسالی نے پورا سکرپٹ سمندر میں پھینک دیا۔ سب دم بخود ۔۔۔۔ کچھ سنبھل کر ایک شخص نے چھلانگ لگائی اور کاغذات باہر نکالے لیکن تب تک گزارش بھیگ چکی تھی۔




















