کشمیر: تشدد میں اضافہ کیوں؟

کشمیر فوج
،تصویر کا کیپشنہندوستان کے زير انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن پر گزشتہ پانچ دنوں سے تصادم جاری ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

پورے ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کے موقع پر بھارتی زیرانتظام کشمیر کے جنگلی علاقوں میں فوج اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں فریقین کو بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے۔

شمالی کشمیر کے شمس واری جنگلات میں تصادم کے بارے میں ابھی تک کسی مسلح تنظیم نے کوئی بیان نہیں دیا ہے اور یہ واقعات میڈیا کی رسائی سے دور رونما ہوئے جبکہ معلومات کا واحد ذریعہ بھارتی فوج ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر مبصرین ان پر کوئی حتمی رائےقائم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

مقبول اُردو ہفت روزہ ’چٹان‘ کے مدیر طاہر محی الدین کا خیال ہے کہ اس واقعہ کو کسی بڑی تبدیلی کا آغاز کہنا جلد بازی ہوگی۔ وہ کہتے ہیں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کیا واقعی پاکستان نے دراندازوں کو بھیجنے کی پرانی پالیسی پر دوبارہ عمل شروع کردیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے چند ماہ انتظار کرنا ہوگا۔‘

واضح رہے پچھلے سال بھی کنٹرول لائن کے قریب ایسے واقعات میں متعدد شدت پسند ہلاک کیے گئے اور فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ درانداز وادی میں گڑبڑ پھیلانے کے لیے داخل ہوچکے ہیں۔ لیکن ان واقعات کے بعد یہاں اب تک کے سب سے پرامن الیکشن منعقد ہوئے جن میں باسٹھ فی صد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

اس استدلال کے باوجود کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید ہندوستان اور پاکستان کے درمیان درپردہ سطح پرزبردست کشیدگی پائی جاتی ہے، جس کا نتیجہ اب کشمیر میں ملی ٹینسی کے ایک نئے دور کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے۔

انگریزی کے استاد اور سیاسی تبصرہ نگار پروفسیر غلام نبی ڈار کہتے ہیں کہ ’آپ ان جھڑپوں کا جائزہ لیں۔ کئی سال بعد ہم سُن رہے ہیں کہ شدت پسندوں کے حملے میں میجر اور سات فوجی مارے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شدت پسند تھکے ہوئے نہیں تھےبلکہ تازہ دم تھے۔ چونکہ آپریشن طول پکڑ رہا ہے، لہٰذا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے کے مقابلے زیادہ تربیت یافتہ ہوں۔‘

لیکن بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے ماہر ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین شسمس واری تصادم کی خبر کو ’غیر مصدقہ‘ کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کچھ سال پہلے ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان کے رہنے والے شدت پسندوں کو مارا جارہا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ پولیس اور فوج نے ترقیوں کےلیے عام کشمیری مزدوروں کو ٹھکانے لگایا تھا۔ حکومت نے تو افسر سمیت سات پولیس والوں کو قتل کے جرم گرفتار بھی کرلیا۔ صرف یہ کہنا کہ جھڑپ ہوئی کافی نہیں ہے۔‘

ان متضاد آراء کے علاوہ کچھ دیگر حلقے یہ بھی کہتے ہیں پاکستان نے مالاکنڈ اور باجوڑ میں طالبان کے ساتھ جو امن معاہدے کئے ہیں، کشمیر پر ان کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، کیونکہ بقول ان کے اگر طالبان نے پاکستان فوج کے خلاف کارروائیاں روک دی ہیں تو وہ کشمیر میں سرگرمیاں شروع کرسکتے ہیں۔

نوجوان صحافی نصیر احمد گنائی کہتے ہیں کہ ’ کشمیر میں اس طرح کی کوئی بھی طویل کارروائی ہو تو دونوں ملکوں کے درمیان تلخیاں بڑھتی ہیں، کیونکہ حکومت ہند پاکستان پر دراندازی کی حمایت کا الزام عائد کرتی ہے اور پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ لیکن ابھی تک شمس واری کے بارے میں صرف فوج نے دراندازی کا دعویٰ کیا ہے، حکومتی سطح پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اندر کے ہی کچھ شدت پسند ہوں جن کے ساتھ فوج فیصلہ کُن لڑائی لڑ رہی ہو۔‘

واضح رہے وادی میں پچھلے کئی سال سے تشدد کے اکا دکا واقعات ہوتے رہے ہیں، لیکن سابق پاکستانی صدر ریٹائرڑ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مظفرآباد میں شدت پسندوں کے کمیپ بند کیے جانے کے بعد حالات مجموعی طور پر پرُامن ہی رہے تھے اور دونوں ملکوں نے کشمیر سے متعلق اعتماد سازی کے کئی اقدامات اُٹھائے تھے۔ ان اقدامات میں کنٹرول لائن کو آمدورفت اور تجارت کے لیے نرم کرنا سرفہرست ہے۔

کشمیر میں ہلاکتیں

انسداد دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے پولیس اور فوج کے سینئر افسروں کا کہنا ہے مارچ کے مہینے میں دراندازی کی روایت نہیں رہی ہےکیونکہ دراندازی کے تمام راستوں پر برف ہوتی ہے جو مئی کے دوسرے ہفتے سے پگھلنا شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض دوسرے افسروں کا کہنا ہے کہ شمس واری جنگلات میں پہلے سے ہی شدت پسندوں نے کمین گاہیں تعمیر کرلی ہیں۔

یہ بات معنی خیز ہے کہ اگلے مہینے کشمیر میں بھی بھارت کے دیگر صوبوں کے ساتھ ساتھ پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔ صوبائی انتظامیہ نے انتخابات سے متعلق سیکورٹی صورتحال کا از سرنو جائزہ لینے کے لیے پولیس، فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ صلاح مشورے شروع کردیے ہیں۔