’کشمیر:چار فوجی، چھ شدت پسند ہلاک‘

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجی(فائل فوٹو)
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں کنٹرول لائن کے قریب تین دن سے وسیع پیمانہ پر فوجی آپریشن جاری ہے۔ وسیع جنگلی علاقہ میں جاری کارروائی میں بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ اتوار شام تک ایک میجر، تین فوجی اہلکار اور چھ مسلح شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس دوران بھارتی اور پاکستانی افواج نے ایک دوسرے پر کشمیر کے ہی اُوڑی سیکٹر میں سیز فائر معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

فوج کے ترجمان جے ایس برار نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں سینکڑوں مربع میل پر محیط شمس واری جنگلات میں یہ کارروائی طول پکڑ سکتا ہے کیونکہ بقول ان کے مسلح شدت پسندوں نے جنگلی علاقہ میں زیر زمین کمین گاہیں تعمیر کی ہیں اور وہ کنٹرول لائن پر دراندازوں کی اعانت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بیس مارچ کو کپواڑہ کے چوکی بل گاؤں کے قریب شمس واری جنگلی سلسلے کے درنگ یاری علاقہ میں فوج اور پولیس نے مصدقہ اطلاع ملنے پر وسیع علاقہ کا محاصرہ کیا اور تین مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔‘ تصادم میں چھ فوجی بھی زخمی ہوگئے۔ یہ تصادم اکیس مارچ کو دوبارہ شروع ہوا جس میں ایک اور شدت پسند مارا گیا۔

مسٹر برار کے مطابق مذکورہ جنگلی خطے میں ہی اکیس مارچ کو وِلگام کے مقام پرایک اور خونریز جھڑپ میں میجر موہِت شرما نامی ایک فوجی افسر سمیت چار فوجی مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتوار کی صبح کارروائی کا دائرہ وسیع کیا گیا اور اسی جنگلی علاقہ میں ہفرڈہ کے قریب مزید دو مسلح شدت مارے گئے۔

کپواڑہ پولیس کے مطابق ابھی تک صرف تین شدت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو اس کارروائی سے کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ فوج اور پولیس نے غیر آباد جنگلی علاقہ کو محاصرے میں لیا ہے۔

دریں اثناء پولیس کے مطابق اکیس مارچ کو اوڑی سیکٹر کے قریب کنٹرول لائن پر فائرنگ کی آواز سُنی گئی۔ بھارتی فوج کی جموں میں مقیم شمالی کمان نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستانی افواج نے دو ہزار تین میں طے پائے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس میں ایک بھارتی فوجی زخمی ہوگیا۔ تاہم میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستانی افواج نے کہا ہے کہ بھارتی افواج نے پاکستانی پوسٹوں پر فائرنگ کی۔