’اطلاع لائن آف کنٹرول کے پار سے ملی تھی‘

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شمال کی جانب کنڑول لائن کے ساتھ لگنے والے وسیع جنگلی علاقہ میں پچھلے چھ روز سے جاری فوجی آپریشن سے متعلق بدھ کو ایک سینیئر فوجی افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں ’لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب‘ سے اطلاع ملی تھی۔
اس دوران ممنوعہ مسلح تنظیم لشکر طیبہ نے ایک بیان میں فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس میں تیس فوجیوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔
شمالی شمس واری جنگلی علاقہ میں کپواڑہ کے قریب ہو رہے اس آپریشن میں اب تک فوج کے مطابق آٹھ فوجی اہلکار اور سترہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
بدھ کو نامہ نگاروں کو آپریشن کی تفصیل دیتے ہوئے فوج کے برگیڈئیر گورمیت سنگھ نے بتایا ’ہمیں کنٹرول لائن کی دوسری طرف سے مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ اس جگہ شدت پسند کسی بڑی کارروائی کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ ہم نے محاصرہ کرلیا اور آپریشن شروع کیا۔‘
مسٹر سنگھ نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ ’مصدقہ اطلاع‘ انہیں پاکستانی افواج نے فراہم کی تھی یا اس ذرائع کوئی اور ہیں۔ انہوں نے جھڑپوں کی جگہ سے ہتھیار اور گولہ بارود کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا اور کچھ ادویات برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔
دریں اثنا منموعہ لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’ہمیں بھارتی فوج کی نقل وحرکت کے بارے میں پہلے سے معلومات تھیں۔ مجاہدین نے گھات لگا کر حملہ کیا اور ابھی تک تیس فوجی مارے گئے ہیں اور پچاس سے زائد زخمی ہیں۔ اس آپریشن میں لشکر کے صرف دس مجاہدین ہلاک ہوئے ہیں۔‘
یاد رہے شمس واری کے گھنے جنگلات میں یہ تصادم بیس مارچ کو شروع ہوئے اور وقفہ وقفہ سے جھڑپیں ہوتی رہیں۔ جھڑپوں میں فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں میجر موہِت شرما اور ان کے سات ساتھیوں میں ایک کشمیری نوجوان شبیر احمد بھی شامل تھا جو فوج کی ’ون پیرا‘ کے ساتھ بحیثیت کمانڈو کام کرتا تھا۔

















