چوتھا مرحلہ ختم،جوڑ توڑ شروع

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں جمعرات کو دلی کی سات سیٹوں سمیت آٹھ ریاستوں کی 85 حلقوں میں اوسطا 57 فی صد ووٹ ڈالے گئے۔
انتخابی کمیشن کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 75 فیصد ووٹنگ مغربی بنگال میں ہو ئی جبکہ سب سے کم 24 فیصد ووٹنگ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرینگر پارلیمانی حلقے میں ریکارڈ کی گئی۔ ہریانہ اور پنجاب میں 60 فی صد سے زیادہ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
مغربی بنگال اور راجستھان کے بعض علاقوں میں تشدد کے واقعات بھی ہو ئے جن میں کم از کم دو افراد کے ہلاک ہونے کی خبرہے ۔
دلی کی بھی ساتوں سیٹوں کے لیے پولنگ ہو ئی ۔ یہاں پولنگ کا اوسط پچاس فی صد سے ذیادہ رہا ۔ انتخابی کمیشن نے بتایا ہے کہ اس مرحلے میں مجموعی پولنگ کا اوسط پہلے کے تین مرحلوں سے بہتر رہا ہے ۔
انتخابات کا آخری مرحلہ تیرہ مئی کو ہے لیکن ملک کی سیاسی فضا پر غیر یقینی کی کیفیت ابھی سے ہی طاری ہونے لگی ہے ۔
دونوں بڑے سیاسی اتحاد - کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے اور بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کا اعتماد ہلا ہوا نظر آرہا ہے۔
بی جے پی ایک طرف یہ کہتی ہو ئی نظر آرہی ہے کہ اسے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جائے گی تو وہیں پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اتحاد سے باہر کی جماعتوں سے بات چیت کا ذکر کرتے ہیں ۔'' اگر ہمیں تھوڑی بہت ضرورت ہو ئی تو ہم نے بہت سی جماعتوں سے بات کی ہے ۔''
ادھر اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو نے یہ شرط رکھی ہے کہ جو بھی ان کی حریف اور اتر پردیش کی و زیر اعلی مایاوتی کی حکومت برطرف کرے گا وہ اس کی حمایت کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ان کی جماعت کے سینیئر رہنما امر سنگھ نے اشارہ کیا ہے کہ ان کی جماعت کانگریس کی حمایت کر سکتی ہے ۔'' مایاوتی کمیونسٹوں کے ساتھ ہیں اور جہاں مایا ہوںگی وہاں ہماری چھایا بھی نہیں ہو گی ۔ ہم بی جے بی کے ساتھ جا نہیں سکتے ۔ اس لیے مجبوری میں ہم کانگریس کے ساتھ جا سکتے ہیں ۔''
دوسری جانب کانگریس بھی اب بی جے پی کے اتحادیوں کو اپنی طرف کھنچنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ان جماعتوں میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی جے ڈی یو سب سے اوپر ہے ۔ لیکن نتیش نے آج کنفیوژن دور کرنے کی کوشش کی انہوں نے کہا ۔'' جے ڈی یو این ڈی اے کا حصہ ہے ۔ ہم بہار میں بی جے پی کے ساتھ حکومت میں ہیں۔ اور ہم اس آگے نہیں دیکھ رہے ہیں۔''
ادھر مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما سیتا رام یچوری نے بھی یہ کہہ کر فضا گرم کردی ہے کہ '' نتائج کے بعد پیدہ ہونے والی صورتحال کے بارے میں نتائج آنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا''۔
نتیجے تو 16 مئی کو آئیں گے لیکن یہ انتخابات اتنے مشکل ثابت ہو رہے ہیں کہ انتخابی ماہرین کا کہنا ہے اصل انتخابی جنگ پولنگ کے ان مرحلوں میں نہیں بلکہ نتائج آنے کے بعد شروع ہو گی۔





















