بات تو کرنی ہوگی

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ممبئی پر شدت پسندوں کے حملے کے چھ ماہ بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعلی سطحی روابط کا سلسلہ تو دوبارہ شروع ہوگیا ہے لیکن شاید داخلی تقاضوں کے پیش نظر حکومت ہند یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے اپنے موقف میں کوئی نرمی یا تبدیلی نہیں کی ہے۔
لیکن اگر صرف ایک مہینے کے اندر پہلے خارجہ سیکریٹری دہشت گردی کے مسئلے پر بات چیت کریں گے اور پھر دونوں ملکوں کی اعلی قیادت شرم الشیخ میں ملاقات کرے گی، تو پھر یہ مذاکرات کا باقاعدہ عمل نہیں تو اور کیا ہے؟
منموہن سنگھ حکومت بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے اور ممبئی پر حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا، مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کیے جائیں گے۔
لیکن اس دوران پاکستان نے معمول سے ہٹ کر ایسے کون سے اقدامات کیے ہیں جنہیں حکومت ہند اپنے موقف کی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتی ہے؟ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کیے جانے کے خلاف ابھی تک اپیل دائر نہیں کی گئی ہے جبکہ اندرون پاکستان تفتیش میں بظاہر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ یا کم سے کم یہاں دلی میں حکومتی اہلکاروں کے بیانات سے تو یہ ہی تاثر ملتا ہے۔
تو پھر وزیر اعظم منموہن سنگھ کو صدر آصف علی زرداری سے ملنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اگر وہ یکترن برگ میں بھی صدر زرداری سے باقاعدہ بات چیت کرنے سے انکار کردیتے تو کیا پاکستان پر دباؤ میں اضافہ نہیں ہوتا؟
سابق سفارتکاروں کے مطابق اس کے دو پہلوں ہیں۔ مذاکرات جلد سے جلد دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے بڑھتا ہوا دباؤ اور حکومت کے اندر بھی یہ احساس کہ نہ تو بات چیت ہمیشہ کے لیے بند رکھی جاسکتی ہے اور نہ اب اس کا مزید فائدہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم برنس صرف ایک ہفتہ قبل دلی آئے تھے اور انہوں نے ہندوستان کو یہ واضح پیغام دیا تھا کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا جلد سے جلد آغاز دیکھنا چاہتا ہے۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی آئندہ ماہ ہندوستان کا دورہ کرنے والی ہیں اور اس کا بھی ملاقات کی ٹائمنگ سے تعلق ہو سکتا ہے۔
امریکی دباؤ تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی شاید یہ احساس بھی گھر کر رہا تھا کہ دباؤ بڑھانے اور اشو کو ہائی لائٹ کرنے کی شکل میں بات چیت نہ کرنے کا جو فائدہ ہوسکتا تھا وہ ہو چکا، اب ضرورت حکومت پاکستان کو 'اینگیج' کرنے کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس حکمت عملی کے حق میں دلیل یہ ہے کہ بات چیت نہ کرنے سے پاکستان کی سویلین حکومت کمزور پڑتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ میں ہند مخالف لابی مضبوط ہوتی ہے، جو خود ہندوستان کے حق میں نہیں۔
شاید اسی لیے یہ فیصلہ کیا گا کہ رابطے تو بحال کیے جائیں لیکن کچھ اس انداز میں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
سفارتی روایات سے ہٹ کر منموہن سنگھ نے شاید اسی لیے صدر زرداری کو ٹی وی کیمراز کی موجودگی میں یہ سخت پیغام دیا کہ دہشت گردوں کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ منموہن سنگھ انہتائی نرم گفتار ہیں اور اس بات کا امکان کم ہی لگتا ہے کہ صدر زرداری کو دیکھ کر ان سے رہا نہیں گیا اور دل میں جو بات تھی وہ زبان پر آگئی۔
لگتا ہے کہ یہ 'سین کوریوگرافڈ' تھا۔ یہ تاثر دینے کے لیے کہ ہندوستان طاقت کی پوزیشن سے بات کرے گا۔ اور آج کے اخبارات پر نظر ڈالیں تو یہ حکمت عملی شاید توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب ہوئی ہے۔
تمام اخبارات نےملاقات کے اسی پہلو کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے جبکہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔
اس ملاقات کے بارے میں انگریزی روز نامہ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ جامع مذاکرات کا عمل سرکاری طور پر ختم ہوچکا ہے اور اب ہندوستان' اینگیجمنٹ' یا بات چیت کا نیا طریقہ کار وضع کرے گا۔ خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ملاقات اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔
'اس مرتبہ مذاکرات کا عمل بتدریج آگے بڑھے گا۔۔۔ کوینکہ ہندوستان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات پوری طرح معمول پر لانے کی اب بھی سخت مخالفت ہے۔'
جو لوگ بات چیت کے آغاز کی مخالفت کر رہے ہیں ان میں سابق خارجہ سیکریٹری کنول سبل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ٹائمز آف انڈیا میں ہی ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ' پاکستان کو جو پیغام گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی پالیسی بدلنے کو تیار ہیں، بشرطیکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرے۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان ایسا کیوں کرےگا۔۔۔پالسی پاکستان کو بدلنے کی ضرورت ہے ہندوستان کو نہیں۔'
کنول سبل مزید لکھتے ہیں کہ 'ہماری پاکستان پالیسی کی کمزوری ہی یہ رہی ہے کہ ہمارا موقف چاہے کتنا بھی درست ہو، اور چاہے کوئی بھی پارٹی اقتدار میں ہو، ہم زیادہ عرصے تک اس پر عمل پیرا نہیں رہتے۔ کچھ عرصے بعد ہمیں اپنا جائز موقف بھی ضرورت سے زیادہ سخت لگنے لگتا ہے اور ماضی کے سبق کو بھلا کر ہم پھر اپنی غلطیاں دہرانے لگتے ہیں۔'
ہوسکتا ہے کہ کنول سبل کا خیال درست ہو لیکن دوسرا آپشن کیا ہے؟ بات چیت بند ہی نہیں ہونی چاہیے تھی اور اب شروع ہوگئی ہے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر آپ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے تو اس دور پر ایک نگاہ ڈالیے جب جنرل مشرف نے فوجی بغاوت کے بعد پاکستان میں اقتدار سنبھالا تھا۔
ہندوستان کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ ہم ایک فوجی ڈکٹیٹر سے بات نہیں کریں گے۔۔۔لیکن جیسا کنول سبل بھی کہتے ہیں، واجپئی حکومت اس موقف پر کتنا عرصے قائم رہ پائی؟





















