ریتا بہوگنا کے گھر میں آتشزدگی کی تفتیش

ریتا بہوگنا
،تصویر کا کیپشنریتا بہوگنا معاملے پر تنازعہ تھما نہیں ہے۔

ہندوستان کی ریاست اترپردیش کی انتظامیہ نے کانگریس کی راہنما ریتا بہوگنا جوشی کے گھر کو آگ لگائے جانے کے واقعہ کی تفتیش ریاستی پولیس کی ایک برانچ سی بی سی آئی ڈی سے کروانے کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی حکومت کے اس قدم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کانگریس کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں وہ اس واقعہ کی تفتیش مرکزي تفتیشی ادارے سی بی آئی سے کروانے کی بات کہی تھی۔ کانگریس پارٹی نے بہوجن سماج پارٹی کے کارکناں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پولیس کی مدد کے ساتھ ریتا بہوگنا جوشی کے گھر پر اس لیے آگ لگائی کیونکہ محترمہ جوشی نے وزير اعلی مایاوتی کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ کہے تھے۔ سی بی سی آئی ڈی سے تفتیش کرائے جانے کے بارے میں کابینہ کے سیکریٹری ششانک شیکھر نے اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ قدم حزب اختلاف کی جانب سے کیے گئے مطالبے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ میں جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلا ف پوری کارروائی کی جائے گی خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے ہو۔ وہیں ریتہ بہوگنا جوشی کانگریس کے سیئنر راہنماؤں سے ملاقات کے لیے دلی روانہ ہو گئی ہیں۔

اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کے خلاف نا زیبا بیانات دینے کے الزام میں گرفتار ریاست میں کانگریس کی صدر ریتا بہوگنا کو سنیچرکو عبوری ضمانت مل گئی تھی۔

ریتا بہوگنا اترپردیش کے شہر مراد آباد کی جیل میں 14 دنوں کی عدالتی تحویل میں تھی۔ مرد آباد کی ایک عدالت نے انہیں عبوری ضمانت دی تھی۔

ریتا بہوگنا نے اترپردیش کے شہر مرادآباد میں بدھ کو ریاستی حکومت کی اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے تحت نچلے طبقے کی جن خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے انہیں معاوضہ دیا جارہا ہے۔ اپنے اس خطاب کے دوران ریتا بہوگنا نے وزیر اعلی مایاوتی کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کی تھی جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

ریتا بہوگنا کے بیان پر بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ جمعرات کو مایاوتی نے الزام عائد کیا تھا کہ ریتا بہوگنا نے یہ بیان کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے ایما پر دیئے ہیں وہیں کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو افسوس ہے ریتا بہوگنا نے مایاوتی کے خلاف اس طرح کے بیان دیئے ہیں۔

ریتا بہوگنا کے بیان پر بہوجن سماج پارٹی نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی پارٹیوں نے ریتا بہوگنا کے بیان کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ خود کانگریس پارٹی کے بعض لیڈران نے اس کی مذمت کی تھی۔لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ریتا بہوگنا نے میرے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ معاف کرنے لائق نہیں ہے اور اس معاملے کی قانونی کارروائی چلتی رہے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ورن گاندھی کی طرح سے ریتا بہوگنا کو کچھ دن کے لیے ضمانت مل جائے لیکن ان کا جرم کم نہیں ہوتا ہے۔ دیر سویر قانون کے تحت انہیں سزا ضرور ملے گی۔‘

ریتا بہوگنا کے خلاف شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔