سوائن فلو، نئی حکمت عملی

سوائن فلو سے ہندوستان میں پہلی موت کے بعد وفاقی حکومت نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے نئے رہنما خطوط جاری کیے ہیں جن کے تحت تمام مشتبہ مریضوں کو لازمی طور پر ہسپتال میں داخل نہیں کیا جائے گا۔ وزارت صحت کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر ونیت چودہری کے مطابق سوائن فلو کی جانچ اور علاج کی سہولت بدستور سرکاری ہسپتالوں میں ہی دستیاب رہے گی۔ لیکن فلو کی علامتوں کے ساتھ ہسپتال آنے والے ہر مریض کو لازمی طور قرنطینہ میں نہیں رکھا جائے گا۔ 'اگر مریض گھر جانا چاہے گا تو جانچ کے لیے سامپل لے کر اس جانے دیا جائے گا بشرطیکہ وہ گھر میں خود کو دوسروں سے الگ رکھے تاکہ بیماری کو پھیلانے سے روکا جاسکے۔۔۔ لیکن حتمی فیصلہ معائنہ کرنےوالے ڈاکٹر کا ہوگا۔' وزارت صحت کے مطابق اس فیصلے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو اس موسم میں عام فلو کے واقعات میں کافی اضافہ دیکھا جاتا ہے اور دوسرے لوگ قرنطینہ کے خوف سے ہسپتال آنے سے بچتےہیں۔ وزیر صحت غلام نبی آزاد نے کہا کہ لوگ گھبرائیں نہیں۔' کروڑوں لوگوں کو کھانسی نزلہ ہوتا ہے(لیکن ہر کسی کو سوائن فلو نہیں) ہر کسی کا ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ایک ٹیسٹ کرنے پر دس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔' ہندوستان میں اب پانچ سو ساٹھ سے زیادہ لوگ سوائن فلو کی زد میں آئے ہیں جن میں کافی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔ صحت کے عالمی ادارے ڈبلو ایچ او کے ایک اہلکار نے مئی میں متنبہ کیا تھا کہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی یعنی دو ارب لوگ سوائن فلو کی زد میں آسکتے ہیں۔ ڈبلو ایچ او کے سربراہ کیجی فکودا کا کہنا تھا کہ ' اگر یہ وائرس دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی وبائی شکل اختیار کر لیتا ہے تو (ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ) دو ارب لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔' اب یہ بیماری دنیا کے تقریباً ہر کونے میں پھیل چکی ہے۔ ستائیس جولائی تک دنیا بھر میں ایک لاکھ چونتیس ہزار سے زیادہ لوگ اس کی زد میں آچکے تھے۔ ان میں سے آٹھ سو سولہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن ڈبلو ایچ او کے مطابق متاثرین کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ اب حکومتوں کے لیے یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ تازہ واقعات کی اطلاع ڈبلو ایچ کو دیں۔ لیکن سوائن فلو کیا ہے اور اس کا کیا سوئر سے کوئی تعلق ہے؟ در اصل یہ ایک نئی قسم کا فلو (انفلوئنزا) ہے جس کی پہلی مرتبہ نشاندہی اپریل دو ہزار نو میں میکسیکو میں کی گئی تھی۔ اسے سوائن فلو کہنا سائنسی اعتبار سے درست نہیں کیوں کہ اس کا سوائن یا سوئر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔اسے شروع میں یہ نام دیا گیا تھا کیونکہ تحقیق کے دوران اس کے جراثیم اور شمالی امریکہ میں پائے جانے والے سوئروں میں جینیادی مماثلت پائی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق چونکہ اس بیماری کا سوئر سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا اس جانور کا گوشت کھانا پوری طرح سے محفوظ ہے۔ لیکن چونکہ یہ فلو ہے، اس کا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان تک آسانی سے منتقل ہوجاتا ہے۔

ہندوستان میں وزارت صحت کے مطابق سوائن فلو کی علامت عام فلو کی طرح ہی ہے، یعنی بخار، کھانسی، گلا خراب، جسم میں درد، سر درد، سردی لگنا اور تھکن کا احساس۔ یہ وائرس کھانسنےاور چھینکنے سے دوسرے لوگوں تک پہنچ سکتا ہے لہذا ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانستے اور چھینکتے وقت منہہ پر کپڑا رکھنے کی احتیاط ضرور برتنی چاہیے۔ اس فلو سے بچنے کے لیے بھی ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ بھیڑ سے بچیں، بار بار صابن سے ہاتھ دھوئیں، متاثرہ لوگوں سے دور رہیں اور خوب پانی پئییں اور اچھی خوراک کھائیں۔ سوائن فلو کے علاج کے لیے دوائیں موجود ہیں لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ دوائی صرف ڈاکٹر کے مشورے پر ہی کھانی چاہیے۔ اگر آپکو سوائن فلو ہو جائے، سکول آفس نہ جائیں تاکہ اسے پھیلنے سے روکا جا سکے۔


















