بی جے پی میں اتھل پتھل

ہندوستان ميں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی عام انتخابات میں ہونے والی شکست کے بعد پارٹی میں جاری اتھل پتھل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اس بات کا اندازہ سنیچر کو اس وقت ہوا جب ذرائع ابلاغ میں یہ خبر آئی کہ پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزير خارجہ یشونت سنہا پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
اس خبر کے آنے کے بعد پارٹی کہ صدر راجناتھ سنگھ نے دلی ميں ایک نیوز کانفرنس طلب کی جس میں انہوں نے کہا گزشتہ کچھ دنوں کے بیانات اور سرگرمیوں کے بعد پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی رہنما یا پارٹی کے کارکن کی جانب سے نظم و ضبط کی خلاف ورزی برداشت نہيں کی جائے گی۔
حالانکہ نیوز کانفرنس میں جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا یشونت سنہا پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں تو انہوں نے واضح طور پر کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ ابھی وہ اپنے دفتر سے اس خبر کی تصدیق کریں گے۔
راجنات سنگھ نے یشونت سنہا کے استعفے پر کوئی جواب تو نہيں دیا لیکن یشونت سنہا کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا استعفٰی بھیجا جا چکا ہے اور اب پارٹی کے فیصلے کا انتظار ہے۔
گزشتہ دنوں پارٹی کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کے خط، یشونت سنہا کے بیان، سدھیندر کلکرنی کے ایک اخبار ميں لکھے آرٹیکل کے بعد پارٹی کی صدارت اور ان کے فیصلوں کے لیے ناقابل یقین خبریں ذرائع ابلاغ میں شائع ہو رہی تھیں۔
اسی سلسلے میں راجناتھ سنگھ نے کہا ’گزشتہ کئی دنوں ميں ذرائع ابلاغ کے ذریعے پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنان کی جو باتیں سامنے آئی ہیں ان سے پارٹی کی ساکھ کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔ پارٹی کی صدارت پوری طرح سے متحد ہے اور پارٹی کا فیصلہ کہ مستقبل میں کسی بھی ایسے بیان ، جس سے پارٹی کی شبیہ کو نقصان ہو، دینے والے پارٹی کے رہنما اور کارکن کے خلاف نظم و ضابط کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی کی جائے گی۔"
عام انتخابات میں ہونے والی پارٹی کی شکست کے بارے میں انہوں نے کہا ’جب جیت ہوتی ہے تو اس کا سہرا تمام افراد کے سر ہوتا ہے، اسی طرح شکست کے لیے کسی ایک شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس کے لیے بھی سبھی ذمےدار ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی ہار کی وجوہات کا جائزہ لینے کا کام شروع ہو گیا ہے۔





















