بھارتی بیان، پاکستانی احتجاج

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں ہندوستان پر نئے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
داخلی سلامتی کے موضوع پر دلی میں ریاستی وزراء اعلٰی کی ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ قابل یقین اطلاعات ملی ہیں کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد ملک پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اب پہلے سے زیادہ جدید ہتھیاروں اور ٹکنالوجی سے لیس ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ان دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا دائرہ اب جموں کشمیر کی حدود سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گیا ہے‘۔
<link type="page"><caption> پاکستانی وزیرِ خارجہ کی وضاحت اور احتجاج سنیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/08/090817_shah_mehmood_int?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=au&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>
پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان پر باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سینئر اہلکار کو پاکستانی دفتر خارجہ طلب کرکے حکومت پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا۔
کانفرنس میں ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چند برسوں میں خاصی بہتری آئی ہے اور تشدد کے واقعات مسلسل کم ہوئے ہیں لیکن کچھ پریشان کن رحجانات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا ’درارندازی کے واقعات میں خاصی کمی آرہی تھی لیکن اس برس اس میں ایک بار پھر اضافہ نظر آ رہا ہے ۔ درانداز اب پہلے سے زیادہ مسلح، انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ترین مواصلاتی ساز و سامان سے لیس ہوتے ہیں۔‘
وزیراعظم نے شوپیاں، سوپور اور بارہمولہ کے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ان غیر متعلقہ اور الگ نوعیت کے واقعات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ان سے ملک دشمن جذبات کو ہوا دی جا سکے‘۔ تاہم انہوں نے امر ناتھ یاترا پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ یاترا بغیر کسی ناخوشگوار واقع کے اختتام کو پہنچی۔
اس سے قبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا کہ ملک کو ’دہشتگردی، علحیدگی پسندی اور نکسلواد کے تین بڑے خطرات‘ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی پر 26 نومبر کے حملے کے بعد انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مربوط کوششوں اور ریاستوں کے تعاون سے ملک میں دہشت گردی کی کئی ممکنہ کارروائیوں کو ناکام کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ نکسلواد ملک کے سامنے سلامتی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کا مقابلہ ترقی اور پولیس ایکشن کی دوہری حکمت عملی کے ساتھ کیا جائے گا۔




















