’بات چیت کے لیے ماحول سازگار نہیں‘

ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ فی الوقت پاکستان کے ساتھ رشتے اتنے اچھے نہیں کہ اس کے ساتھ کسی بھی سطح کی بات چیت ہو سکے۔
منموہن سنگھ نے یہ بات راجستھان کے شہر باڑمیر میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان تھر ایکسپریس کے حوالے سے جب مسٹر سنگھ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا باڑمیر میں بھی تھر ایکسپریس رکنے کے امکانات ہیں اور کیا اس پر بات چیت ہورہی ہے تو مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ اس وقت رشتے ایسے سازگار نہیں ہیں کہ اس سے کسی بھی سطح کی بات چیت ہو سکے اور یہ تو تبھی ممکن ہے جب دونوں ملکوں میں ایسی کوئی بات چیت ہو۔‘
حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور منموہن سنگھ نے مصر میں شرم الشیخ میں ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی بات کہی تھی۔
اطلاعات کے مطابق منموہن سنگھ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں اور اس معاملے میں وہ بعض پاکستانی حکام کے بیانات سے خوش نہیں ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نے باڑ میر کے دورے کے دوران یہ بھی وضاحت کی کہ پوکھرن کے نیوکلیئر ٹیسٹ کے متعلق جو تنازعہ پیدا ہوا ہے وہ غیر ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر اے پی جے عبدالکلام اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ دھماکے کامیاب رہے تھے۔
منموہن سنگھ نے کہا کہ ’بعض سائنس دانوں کی طرف سے غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ عبدالکلام اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ آزمائشی دھماکے کامیاب تھے۔‘
چند روز قبل ایک سرکردہ بھارتی سائنسدان نے کہا تھا کہ مئی انیس سو اٹھانوے میں پوکھرن میں جو جوہری آزمائشی دھماکے کیے گئے تھے، وہ حکومتی دعوؤں کے برعکس پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اپنے دفاعی جوہری پروگرام کو بہتر بنانے کے لیے بھارت کو مزید آزمائشی دھماکے کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت میں دفاعی تحقیق و ترقی کے ادارے ڈی آر ڈی او کے سینیئر سائنسدان کے سنتھانم آزمائشی جوہری دھماکوں کے وقت پوکھرن میں موجود تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’تھرمونیوکلیر یا ہا ئیڈروجن بم کے دھماکوں کی شدت سائنسدانوں کی توقعات سے کہیں کم تھی۔‘
اس وقت ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی اور انہیں دھماکوں کے بعد پاکستان نے بھی زبردست بین الاقوامی دباؤ کے باوجود جوابی آزمائشی دھماکے کیے تھے۔
جوہری دھماکوں کے وقت پوکھرن میں سابق صدر اے پی جے عبدالکلام اور اس وقت کے قومی سلامتی کے صلاح کار برجیش مشرا بھی موجود تھے۔



















