ہندوستان کا نیا جوہری ری ایکٹر

ہندوستان نے بھاری پانی والے جوہری ری ایکٹر کا ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جس میں افزودہ یورینیم کم خرچ ہوتا ہے اور اس میں ایندھن کے طور پر تھوریم استعمال کیا جائے گا۔
ہندوستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین انل کاکوڈکر نے جوہری توانائی کے بین القوامی ادارے آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس میں بتایا کہ یہ ری ایکٹر موجودہ تھرمل ری ایکٹروں کے مقابلے میں ایک یونٹ توانائی پیدا کرنے کے لیے بہت کم یورینیم استعمال کرتا ہے۔
دنیا کے بیشتر جوہری ری ایکٹروں میں ایندھن کے لیے یورینیم یا پلوٹونیم کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس اس نئے ری ایکٹر میں تھوریم اصل ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
ہندوستان میں تھوریم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے اور جوہری سائنسدانوں نے ملک کے یورینیم اور تھوریم کے موجودہ ذخیروں کی بنیاد پر اپنا جوہری بجلی کا پروگرام وضع کیا ہے۔
انل کاکوڈکر نے جس تھریم ری ایکٹر کا ذکر کیا ہے وہ 300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ تاہم ابھی یہ صرف ڈیزائن کے مرحلے میں ہے اور اس مرحلے پر یہ نہیں معلوم کہ یہ کب تک تیار ہو گا۔
ہندوستان میں یورینیم کی کمی ہے اور اسے اپنی ضروریات کے لیے غیر ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان نے امریکہ سے جوہری اشتراک کا ایک معاہدہ کیا ہے جس کی حزب اختلاف اور حکومت کی کئی اتحادی جماعتوں کی طرف سے بھی شدید مخالفت ہوئی ہے۔
1998 کے جوہری تجربے میں شامل رہنے والے جوہری سائنسداں کے سنتھنم کہتے ہیں کہ تھوریم پرمبنی نیا ڈیڑائن صحیح سمت میں ایک اچھا قدم ہے۔ ’ہندوستان دو طرح کے ری ایکٹروں پر اس لیے کام کر رہا ہے کہ مستقبل قریب میں اسے اپنی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے یورینیم پرمبنی ری ایکٹروں کی ضرورت ہے لیکن دور رس مفادات کے پیش نظر ہندوستان کو جوہری توانائی میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے تھوریم والے ری ایکٹروں پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔
ڈاکٹر سنتھنم انرجی کمیشن کے چیئر مین انل کاکوڈکر کے اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ تھوریم والے ری ایکٹروں سے جوہری بم بنانا بھی مشکل ہو گا ۔ اگریہ دلیل صحیح ہے تو جوہری عدم توسیع کے عمل میں یہ ٹیکنالوجی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس وقت سب سے اہم سوال یہ کہ اس ڈیزائن پر نیا ری ایکٹر کب بنتا ہے اور بننے کے بعد وہ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔



















