گیلانی کی نظربندی پر کشمیر بند

کشمیر(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنکال کے پیش نظر سنیچر کو وادی کے تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

سنیچر کو بھارتی زیرانتظام کشمیر میں ایک بار پھر ہڑتال سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ علیٰحدگی پسند اتحاد حُریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی گرفتاری اور انہیں سخت ترین پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجے جانے کے خلاف ہڑتال کی کال جمعہ کے روز ہی دی تھی۔

اس کال کے پیش نظر سنیچر کو وادی کے تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ بنک اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ سرکاری دفاتر کا کام کاج بھی متاثر ہوا۔

واضح رہے اسّی سالہ گیلانی کو جون میں گرفتار کرکے سرینگر کے ایک صحت افزا مقام چشمہ شاہی کے قریب ایک گیسٹ ہاوس میں نظربند کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے انہیں ریاست کے خلاف جنگ مسلط کرنے، تشدد بھڑکانے اور امن و قانون کی خلاف ورزی جیسی دفعات کے تحت آٹھ معاملات میں ملوث قرار دے کر انہیں صوبے کے پبلک سیفٹی ایکٹ قانون کے تحت دو سال تک قید کرنے کی سفارش کی۔ سرینگر کے ڈپٹی کمشنر معراج الدین ککرو نے سفارش کے حق میں فیصلہ سنایا اور انہیں قید کرلیا گیا۔ مسٹر گیلانی فی الوقت سرینگر کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ وہ دل، گردوں، آنتوں اور دانتوں کے مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں۔

ان کی گرفتاری کے خلاف جہاں علیٰحدگی پسند گروپوں نے ردعمل کا اظہار کیا ہے وہیں ہندنواز پی ڈی پی نے بھی ان کی گرفتاری کو ’ڈرکونین اقدام‘ قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ شوپیان میں اُنتیس مئی کے ریپ۔قتل معاملہ پر عدالتی حکم سے پولیس افسروں کی گرفتاری کے بعد وادی میں حالات بحال ہوگئے تھے، یہاں تک کہ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کے بھارت میں پانچ روزہ قیام کے دوران کشمیر میں کسی طرح کا کوئی علیٰحدگی پسندانہ مظاہرہ یا ہڑتال نہیں ہوئی۔