ہند ۔ پاک جمود ٹوٹنے کےآثار ہیں

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ممبئی پر دہشت گردانہ حملے کو اب ایک برس پورا ہونے کو ہے۔ اس مدت میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پوری طرح جمود کا شکار رہے ہیں۔ ہندوستان کا یہ اصرار رہا ہے کہ پاکستان چھبیس نومبر کے حملے کے مرتکبین کے خلاف موثر کارروائی کرے۔
پاکستان نے اس سلسلے میں کئی اہم گرفتاریاں کیں اور باضابطہ مقدمے کا آغاز بھی کیا ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان اس واقعہ سے جو تعطل پیدا ہوا وہ جوں کا توں برقرار رہا۔
اگر شدت پسندی، ہلاکتوں اور حقوق انسانی کی پامالیوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو گزشتہ دو برس میں کشمیر کی صورتحال میں زبردست تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
شدت پسند سرگرمیوں اور سرحدی جھڑپوں میں غیر معمولی کمی آئی اور علیحدگی پسندی کی تحریک پرانے دنوں کی طرح جلسے جلوسوں اور کچھ مظاہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ معمول کے حالات میں یہ صورتحال ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہو سکتی تھی۔

لیکن گزشتہ برس ممبئی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مکمل طور پر تعطل کا شکار ر ہے ہیں۔ ہندوستان ممبئی حملے کے سلسلے میں شدت پسند رہنما حافظ محمد سعید اور بعض دیگر رہنماؤں کی گرفتاری پر زور دیتا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے لیے مشکل یہ رہی ہے کہ اس کے لیے اس طرح کے قدم اٹھانے میں زبردست پیچیدگیاں حائل ہیں۔
ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان پر ہندوستان کے ساتھ ساتھ امریکہ کی طرف سے بھی زبردست دباؤ رہا ہے۔ ایک مرحلے پر ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر دباؤ بہت بڑھ گیا تھا لیکن سوات اور جنوبی وزیرستان میں گمبھیر اندونی صورتحال نے ساری توجہ پاکستان کی طرف منتقل کر دی۔ پاکستان میں اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں روزانہ بم دھماکوں اور خونریزیوں کے آگے خود پاکستان کی بے بسی ظاہر ہونے لگی اور وہ دہشت گردی کے ایک بڑے مظلوم کے طور پر سامنے آیا۔ پاکستان میں دہشتگردی کی صورتحال سے ہندوستان کو بھی اس کے خلاف اپنی مہم میں نرمی پیدا کرنے کا جواز مل گیا ہے۔
اس صورتحال میں ہندوستان نے پاکستان پر جو دباؤ بنایا تھا وہ اس شدت کے ساتھ برقرار نہ رہ سکا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان ٹریک ٹو سفارتکاری کے ذریعے بات چیت چل رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس بات چیت سے ایک طویل عرصے سے جاری جمود توڑنے میں مدد ملی ہے۔ بعض کشمیری رہنما بھی اب پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ کشمیری رہنماؤں سے بھی ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں مذاکرات کا آغاز کر چکی ہیں۔
26 نومبر کو ممبئی بم دھماکوں کی برسی ہے۔ یہ گزرے دنوں کی تلخی ضرور یاد دلائے گی ۔ یہ خونریز واقعہ دونوں ملکوں کی قیادت کو اس حقیقت کی بھی یاد دلائے گا کہ دہشت گردی صرف بے قصور انسانوں کی جانیں ہی نہیں لیتی یہ دو ملکوں کے تعلقات کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ اور شاید دونوں ملکوں کی قیادت اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















