آئی پی ایل کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں

ایس ایم کرشنا
،تصویر کا کیپشنکرشنا کے مطابق حکومت اور آئی پی ایل الگ الگ چیزیں ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان نے اس بات کی ترید کی ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ لینے کے آئی پی ایل کے فیصلے سے ہندوستان کی حکومت کا کوئی تعلق ہے۔

وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نےدلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا '' کھلاڑیوں کا انتخاب ہو یا اس سے متعلق کوئی اور پہلو ، حکومت کا آئی پی ایل سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے پاکستان کو اس جگہ ایک لکیر کھینچنی چاہیئے جہاں حکومت ہند منسلک ہے اور جہاں وہ اس سے لاتعلق ہے ۔''

اس دوران بھارتی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں نا لینے کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

اس بیان کے مطابق '' پاکستان اس بات کے لیے اپنا خود کا جائزہ لے کہ آخر اس بات کے کیا اسباب ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشدیگی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے علاقہ کا امن و استحکام بری طرح متاثر ہوا۔''

مسٹر کرشنا نے یہ بیان اس وقت دیا جب صحافیوں نے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان پر ان کا رد عمل جاننا جاہا کہ '' جس طرح ہندوستان نے پاکستانی کھلاڑیوں کی توہین کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان امن کے عمل کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔''

آئی پی ایل کے فیصلے سے لاتعلقی ظاہر کرنے کے لیے وزیر خارجہ کا یہ بیان ان خبروں کے درمیان آیا ہے کہ پاکستان نے اپنے کرکٹ کھلاڑیون کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ ہوا ہے اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کو ئی پارلیمانی وفد ہندوستان نا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس دوران حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان کے سات کرکٹ کھیلنے کی حمایت کی ہے ۔ پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دہشت گردی کےحوالے سے کہا '' اس میں (پاکستانی) کرکٹرز کا کیا قصور ہے ۔ کرکٹرز کوئی انتہا پسند نہیں ہیں ۔ وہ شدت پسندی کے حمایتی نہیں ہیں ۔ پاکستان کے سبھی شہری یا وہاں کی پوری سرکار انتہا پسندی کی حامی ہو ایسا نہیں ہے''

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے جو بھی کوششیں ممکن ہوں وہ کی جانی چاہیئں ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان کو پوری سنجیدگی کے ساتھ بقول ان کے دہشت گردی سے خود کو الگ کرنا ہو گا تبھی یہ کوششیں کامیاب ہونگی۔

ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں بھی آئی پی ایل کے فیصلے پر نلکتہ چینی کی گئی ہے ۔ہندوستان ٹائمز کے ایک ادارتی مضمون مین کہاگیا ہے کہ آئی پی ایل کے اس قدم سے کرکٹ کو گہری چوٹ پہنچائی گئی ہے۔

ملک کے سرکردہ اخبار انڈین ایکپریس نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ماضی میں کئی بار ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ حالات کے سبب کرکٹ میچز معطل کرنے پڑے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ملک نے دوسرے ملک کے کرکٹ کھلاڑیوں کی تذلیل کی ہو ۔ اخبار نے لکھا ہے اس فیصلے کے لیے جو بھی ذمے دار ہو ایک بات طے ہے ،'' کرکٹ آئی پی ایل کے ہاتھون محفوظ نہیں ہے'' ۔