’پولیس حراست میں گولی ماری گئی‘

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشنقصاب کی گواہی ابھی جاری ہے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچنے والے مشتبہ ملزم اجمل امیر قصاب نے پیر کو مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ انہیں پولیس حراست میں ہاتھ میں گولی ماری گئی تھی۔

خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی کے ذریعہ پوچھے گئے سوالات کے جواب میں قصاب نے کہا کہ حملوں سے بیس روز قبل انہیں پولیس نے جوہو چوپاٹی سے گرفتار کیا تھا ۔ حراست کے دوران اس کے دونوں ہاتھوں کو سُن کر دیا گیا تھا اور پھر اس کے ہاتھ میں گولی ماری گئی تھی۔

کریمنل پروسیجر ایکٹ کے تحت عدالت میں قصاب کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

جج نے قصاب کو عدالت میں گواہوں کے دیے گئے بیانات کے بارے میں سوال کیا تو ہر سوال کے جواب میں قصاب نے کہا ’سب جھوٹ ہے، غلط ہے صاحب ، میں وہاں نہیں تھا‘۔

جج نے ٹائمز آف انڈیا اخبار کے فوٹوگرافر سباستین ڈیسوزا کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ اس فوٹوگرافر نے ان کی تصویریں اس رات کھینچی تھیں۔ اس کے جواب میں قصاب نے کہا کہ ۔ حکومت کا اخبار اور حکومت کے نوکر سب ملے ہوئے ہیں۔ جج نے وضاحت کی کہ وہ اخبارحکومت کا نہیں ہے۔

جج تہیلیانی نے وی ٹی سٹیشن کے بعد کاما ہسپتال کا ذکر کیا ۔ جج نے قصاب سے کہا کہ اس ہسپتال کی نرس نے گواہی دی تھی کہ اس نے انہیں اے کے 47 سےگولیاں مارتے دیکھا تھا۔ قصاب نے کہا کہ ’وہ بہت ڈری ہوئی تھی‘۔

جوائنٹ پولیس کمشنر ہیمنت کرکرے ، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے اور انسپکٹر وجے سالسکر پر گولیاں برسا کر انہیں ہلاک کرنے کے سوال پر قصاب نے کہا کہ ’لیکن میں وہاں نہیں تھا۔سب جھوٹ ہے۔ پولیس کے کہنے پر سب نے غلط گواہی دی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں قصاب نے عدالت کو بتایا کہ کسٹڈی میں لینے کے بعد ایک وین میں اسے حملے والے مقامات کے پاس گھمایا گیا تھا اس وین میں چھ پولیس والے تھے۔

جج نے اب تک قصاب سے ایک سو ستر سوالات پورے کر لیے ہیں۔ پیر کو عدالت میں قصاب نے جج سے کہا کہ وہ گواہی دینا نہیں چاہتا کیونکہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ کل وہ کھانا کھا کر نہیں آئے گا تب وہ گواہی دےسکے گا۔

جج نے قصاب سے کہا کہ اگر وہ گواہی دینا نہیں چاہتے تھے تو اس سے انکار کر سکتے ہیں۔ قصاب نے گواہی دینے کے لیے رضامندی ظاہر کی۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل قصاب نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کھانے میں شاید کچھ ملا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کا ذہن صحیح سے کام نہیں کرتا ۔ انہیں چکر آتے ہیں۔عدالت نے اس کے کھانے کی کی جانچ کا حکم دیا تھا ۔ ڈاکٹروں نے کھانے کے نمونہ کی جانچ کے بعد کہا تھا کہ اس کے کھانے میں کچھ بھی ملایا نہیں گیا تھا۔

قصاب کی گواہی ابھی جاری رہے گی۔ گواہی مکمل ہونے کے بعد استغاثہ اور دفاعی وکلا کے درمیان بحث ہو گی۔ بعد میں عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔