’پاک بھارت مذاکرات امریکہ کیلیے اہم‘

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ اکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا عمل امریکہ کے لیے بھی کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔
جان کیری امریکی سینیٹ کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نہ صرف ہندوستان کے لیے بلکہ ہم سب کے لیے شدت پسندوں سے لاحق خطرات ختم کرنے میں پاکستان کا اہم کردار ہے لہذا یہ بات چیت امریکہ کہ لیے بھی بہت اہم ہے۔’
جان کیری نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر جارج بش کے خلاف صدارتی انتخاب بھی لڑا تھا اور وہ کیری لوگر بل کے بانی بھی ہیں جس کے تحت امریکی کانگریس نے پاکستان کے لیے ساڑھے سات ارب ڈالر کی امداد منظور کی تھی۔
ہند پاک تعلقات کے تناظر میں جان کیری نے کہا کہ باہمی بات چیت انتہائی ضروری ہے۔ ’میرے خیال میں اس سوچ سے بچنا چاہیے کہ ایک ملک (دہشت گردی کے خلاف) اتنی کارروائی نہیں کررہا جتنی اسے کرنی چاہیے۔ اس بارے میں بیٹھ کر بات کرنا انتہائی ضروری ہے کہ کیا کیا جانا چاہیے۔ اگر آپ بات نہیں کرتے تو حالات مزید بگڑتے ہیں۔ کیا پاکستان مزید کچھ کر سکتا ہے؟ بالکل! اور ہم نے اس بارے میں پاکستان سے بات کی ہے اور کرتے رہیں گے۔‘
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیکرٹری سطح کے مذاکرات پچیس فروری کو ہونے والے ہیں اور دلی میں ایک تاثر یہ ہے کہ حکومت نے پاکستان سے اس وقت تک بات نہ کرنے کا موقف کہ جب تک وہ شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کرتا، امریکہ کے دباؤ میں تبدیل کیا ہے۔
جان کیری نے یہ اشارہ بھی دیا کہ پاکستان کے ساتھ کسی ممکنہ سویلین جوہری معاہدے کا انحصار دوسرے عوامل کے علاوہ ہندوستان سے اس کے تعلقات کی نوعیت پر بھی ہوگا۔
’ اگر ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں گراں قدر تبدیلی آجائے، اگر دونوں ملکوں میں مصالحت ہو جائے، اور پاکستان لشکر اور دوسرے شدت پسند گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے، تو پھر آپ دوسرے امکانات کے بارے میں بھی بات کرسکتے ہیں۔۔۔لیکن ہندوستان کی تاریخ یہ ہے کہ اس نے جوہری ٹیکنالوجی کا پر امن مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور کسی اور کو یہ ٹیکنالوجی فراہم نہیں کی ہے جبکہ بدقسمتی سے پاکستان کا ریکارڈ یہ رہا ہے کہ اس نے جوہری ٹیکنالوجی دوسروں تک پہنچائی ہے۔۔۔لہذا بہت سی چیزیں ٹھوس انداز میں بدلنی ہوں گی اور حالات سازگار ہوں تو ہم اس بارے میں بھی بات کرسکتے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوستان کے اس موقف کے جواب میں کہ ’اچھے اور برے طالبان’ میں فرق نہیں کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ’ طالبان بہت طرح کے ہیں، وہ ہیں جو افغانستان سے بھاگ کر پاکستان آئے ہیں، وہ نوجوان بھی ہیں جو بے روزگاری کی وجہ سے ان سے جڑ گئے ہیں اور پھر جرائم پیشہ لوگ بھی ہیں جو طالبان کی طاقت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔۔ لہذا ان میں فرق ہے اور ان کی محرکات میں بھی۔ میرے خیال میں وہاں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تو حالات میں بہت سدھار آئے گا۔۔۔اور پھر میرے خیال میں طالبان کو بہت مشکلات کا سامنا ہوگا‘۔
جان کیری کا کہنا تھا کہ طالبان کو بنانے میں امریکہ نے بھی مدد کی تھی لہذا موجودہ صورتحال کے لیے جزوی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم سب کو معلوم ہے کہ طالبان کیسے وجود میں آئے تھے۔ ہماری بھی جزوی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم نے بھی افغانستان میں سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے طالبان کو کھڑا کرنے میں پاکستان کی مدد کی تھی‘۔
’ہم نے (پاکستان کی خفیہ ایجنسی) آئی ایس آئی کے ساتھ کام کیا اور آئی ایس آئی نے طالبان کے ساتھ۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اس علاقے سے امریکہ کی توجہ ہٹ گئی اور یہ مسئلہ اپنی جگہ قائم رہا۔ لہذا ہمیں اس صورتحال سے نمٹنے میں( پاکستان کی) مدد کرنی ہے‘۔






















