ڈاکٹر عافیہ کیس سرکاری گواہوں کے بیان

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
افغانستان میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکہ میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کے ایک گواہ نے اپنی گواہی میں کہا ہے کہ عافیہ صدیقی نے انیس سال قبل ان کے میساچوسٹس رائفل کلب میں پستول کی تربیت حاصل کی تھی۔
جبکہ ایک اور سرکاری گواہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بگرام میں ان کی تحویل کے دوران مبینہ نفسیاتی تشدد کے بیان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جو بھی کچھ کر رہے تھے وہ ایف بی آئي کے ضابطوں کے تحت کر رہے تھے۔
جمعہ کی صبح نیویارک کی وفاقی عدالت میں جج رچرڈ برمین کی سربراہی میں جیوری کے سامنے استغاثہ کے وکلاء نے میساچوسٹس ریاست میں ہتھیاروں کی نشانہ بازی کے ایک کلب برین ٹری رائفل اینڈ پسٹل کلب میں ہھتیاروں کے انسٹرکٹر گیری وولورتھ کو پیش کیا۔
گیری وولورتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ انیس سو اکانوے میں میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا ایم آئی ٹی میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پستول چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔
جب دفاع کی وکیل نے حکومتی گواہ گن انسٹرکٹر سے پوچھا کہ انہوں نے عافیہ صدیقی کو انیس برس بعد بھی کیسے یاد رکھا ہوا ہے اور شناخت کرلیا تو گن انسٹرکٹر نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو ان کے سر پر ڈھانپے والے رومال یا ہیڈ گئير سے پہچانے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھیں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دفاع کی وکیل کے ایک سوال کے جواب میں گواہ گن انسٹرکٹر نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل ان کے پاس ایف بی آئی والے عافیہ صدیقی کی تصویر لےکر آئے تھے جسے دیکھ کر انہوں نے ان کو پہچان لیا۔
جب دفاع کی وکیل ایلین شارپ نے، جن کا بھی تعلق میساچوسٹس ریاست سے ہے گواہ گن انسٹرکٹر سے پوچھا کہ ڈاکٹر عافیہ نے پستول چلانے کی تربیت کی فیس ادا کی ہوگی اور انہوں نے ان کا ریکارڈ رکھا ہوگا تو حکومتی گواہ نے ایسے سوالات کے جواب نفی میں دئیے۔
استغاثہ نے ایف بی آئی کے ایجنٹ بروس کیمرمین کو گواہی کےلیے عدالت میں پیش کیا جس کےلیے گزشتہ روز عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی گواہی کے دوران کہا تھا ان کی بگرام میں تحویل کے دوران ایجنٹ بروس نے ان پر زبردست نفسیاتی تشدد کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایجنٹ بروس کیمرمین نے جیوری کے سامنے اپنی گواہی کے دوران بتایا کہ بگرام کے ہسپتال میں ڈاکٹر عافیہ کےساتھ انہوں نے ضابطوں کے مطابق سلوک کیا تھا۔ جب ان سے ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کی وکیل ایلین شارپ نے پوچھا کہ کیا دوران استعمال باتھ روم کا دروازہ کھلا رکھنے کی ہدایات بھی قوانین کے مطابق تھیں تو ایجنٹ بروس نے کہا ’ہاں باتھ روم کا دروازہ کھلا رکھنا بھی ریگيولشنز ميں ہے۔‘
ایف بی آئی ایجنٹ نے اپنی گواہی کےدوران استغاثہ کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بگرام میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ان کو بتایا تھا کہ انہوں نے غزنی میں امریکی فوجیوں پر رائفل اٹھائي تھی کیونکہ وہ ڈری ہوئي تھی اور وہاں سے فرار ہونا چاہتی تھیں۔ بقول ایجنٹ بروس ،ڈاکٹر عافیہ کے ایسے اقرار کے بارے میں انہوں نے اپنے حکام یا سپروائزرز کو آگاہ کیا تھا۔ ایجنٹ بروس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مبینہ الفاظ دہرائے ’کہ میں نے امریکیوں کو ڈرانے کےلیے بندوق اٹھائي تھی کہ وہ بھاگ جائيں۔‘
تاہم ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کی ایک وکیل ایلین شارپ نے جب ایف بی آئی ایجنٹ بروس سے دوران جرح سوال کیا کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں تو ڈاکٹر عافیہ کے امریکی فوجیوں پر رائفل اٹھانے والے بیان کا ذکر کیا ہے لیکن ان کے نوٹس میں یہ بات شامل نہیں تو ایجنٹ بروس نے کہا کہ انہیں نوٹس میں ایسے ذکر نہ کرنے کا یاد نہیں۔
اس پر دفاعی وکیل ایلین شارپ نے جب ایجنٹ بروس کیمرمین کو ان کے لیے ہوئے نوٹس دکھائے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ نوٹس میں انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کے ایسے بیان کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر رائفل اٹھائي تھی کو شامل نہیں کیا تھا۔
استغاثہ کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گزشتہ جمعرات کو عدالت میں گواہی کے تردید میں ایف بی آئي کی ایجنٹ انجیلا سر سر بھی پیش ہوئي۔
ایجنٹ اینجیلا سرسر نے جیوری کو بتایا کہ وہ بگرام کے ہسپتال میں داخل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اس شکایت کہ ایجنٹ بروس نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا تھا کے بعد ان کی جگہ پر تعینات ہوئي تھیں اور وہ تمام وقت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ ہسپتال میں گزارتی تھیں۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو سونے دیتی تھیں اور ڈاکٹر عافیہ ان سے خوشگوار انداز میں باتیں کیا کرتی تھیں۔ ایف بی آئي ایجنٹ اینجلا سرسر نے کہا کہ ان کے بگرام میں ہسپتال میں علاج کے دوران دیگر انٹیلیجنس افسران بھی ڈاکٹر ،عافیہ سے انٹرویو کرنے آتے تھے۔
ایف بی آئی ایجنٹ اینجیلا کا بیان جاری تھا کہ عدالت کا وقت ختم ہوگیا۔ اب پیر کے روز ایجنٹ ایجنلا سے ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کے وکلاء جرح کریں گے۔
اس سے قبل افغانستان میں افغان نیشینل پولیس کے ایک افسر کی افغانستان جاکر استغاثہ اور دفاع کے وکلا کی طرف سے لی گئي گواہی کی وڈیو پیش کی گئي۔
وڈیو میں غزنی کے سابق پولیس افسر بشیر نے جو مبینہ واقعے کے وقت غزنی میں تعینات تھے اپنی گواہی میں کہا کہ غزنی میں افغان نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹر میں جائے وقوع والے کمرے میں مبینہ پردے کے پیچھے امریکی گئے تھے اور جس کے بعد انھوں نے تین فائر ہونے کی آوازیں سنی۔
گواہ بشیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمرے میں گولیوں کے تین خول یا بلٹ کیس ملے تھے جو رائفل کی گولیوں کے تھے۔
یاد رہے کہ مبینہ کمرے سے گولیوں کے خول ملنے کی گواہی پہلی بار سامنے آئي ہے جبکہ اس سے قبل استغاثہ کے تمام گواہوں نے بھی مبینہ رائفل ایم فور کی گولیوں کی جائے وقوع سے ملنے کے امکانات کو رد کیا ہے جبکہ دفاع کے ماہر گواہوں نے سرے سے ہی ایم فور رائفل فائر ہونے پر بھی کئي سوالات اٹھائے ہیں۔
تاہم گواہ اور افغان نیشنل پولیس کے سابق عملدار بشیر نے اپنی گواہی میں کہا کہ انہوں نے مبینہ وقوع کے وقت انہوں نے عافیہ صدیقی کے ہاتھ میں رائفل نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے وقت عافیہ بہت ہی غصے میں تھیں اور وہ کہتی تھیں کہ انہیں امریکہ کے حوالے مت کیا جائے۔ انہوں نے دفاع کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عافیہ صدیقی ان کی تحویل سے فرار ہونا چاہتی تھیں۔
گواہ اور افغان نیشنل پولیس کے افسر بشیر نے اپنی وڈیو گواہی کے دوران استغاثہ کے وکیل کے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ عافیہ نے نہیں کہا تھا کہ وہ امریکیوں کی موت دیکھنا چاہتی ہیں اور نہ ہی یہ کہا تھا کہ وہ امریکہ سے نفرت کرتی ہیں بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام غیر ملکیوں سے نفرت کرتی ہیں۔







