امریکہ اور القاعدہ: جنگ پھیل گئی ہے

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
کہتے ہیں کہ جنگ جب ایک بار چھڑجا تی ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی فطری رفتار میں اتنی تیزی لے آتی ہے کہ وہ بالآخر جنگ شروع کرنے والی قوت کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے۔
جنگ کی اسی فطرت کے ساتھ اس وقت امریکہ نبرد آزما ہے جس نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کے خلاف جو جنگ شروع کی تھی وہ اب آٹھ سال کے بعد بھی ختم ہونے کی بجائے پھیلتی جا رہی ہے۔
امریکہ کی اپنی اندرونی سکیورٹی اور دیگر ممالک میں اس کے مفادات کو درپیش خطرہ ٹل نہیں رہا بلکہ سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔میجر ندال حسن کے ہاتھوں فورٹ ہوڈ میں اپنے تیرہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور نائجرین نوجوان کے طیارہ اڑانے کی ناکام کوششیں اس کی تازہ مثالیں ہیں۔
ایسا لگ رہا ہے کہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب سے آٹھ سال قبل شروع کی گئی جنگ ایک دائرے میں لڑی جا رہی ہے جو افغانستان، عراق، پاکستان، یمن کا چکر کاٹ کر واپس نقطہ آغاز پر آکر رک جاتی ہے۔
پچھلے سال امریکی عوام نے پہلی بار ایک سیاہ فام شخص کو منتخب کرتے وقت ان سے جو امیدیں باندھ رکھی تھیں ان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی شامل تھا مگر امریکی صدر براک اوباما سے بظاہر جنگ سمٹنے کی بجائے پھیل رہی ہے۔
جارج ڈبلیو بش نے جاتے ہوئے براک اوباما کے لیے عراق اور افغانستان کے دو فرنٹ سیاسی وراثت کے طور پر چھوڑ ے تھے لیکن انہوں نے ایک سال میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کو شامل کرکے ایف پاک کی اصطلاح وضع کرلی اور اب یمن بھی بظاہر ایک نیا فرنٹ بنتا دکھائی دے رہا ہے یعنی براک اوباما دو کی بجائے چار فرنٹ پر القاعدہ کے ساتھ لڑنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

عرب ممالک جو آٹھ سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے عملاً باہر تھے اب یمن میں القاعدہ کے سر اٹھانے کے بعد ان پر بھی اس کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ یہاں امریکہ کا اثرو نفوذ ہی القاعدہ کو فکری اساس فراہم کرنے کے لیے کافی ہے یعنی دوسرے لفظوں میں القاعدہ مذہب کے نام پر عرب نیشلزم کی ایک شکل پیدا کر رہی ہے۔
اگر مغربی ذرائع ابلاغ اور امریکی حکام کے بیانات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کی کارروائیوں بطور خاص پاکستان میں جاسوسی طیاروں کے حملوں کی وجہ سے القاعدہ کے ارکان نے یمن اور صومالیہ کا رخ کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت افغان صوبہ کنڑ میں القاعدہ کے سو اور پاکستان کے قبائلی علاقے میں دو سے تین سو کے قریب ارکان سرگرم ہیں جبکہ یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں کی تعداد دو سے تین سو کے قریب بنتی ہے۔
امریکی اخبارات اور حکام کا القاعدہ کے اراکین کا یمن اور صومالیہ کی جانب رخ کرنے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں جب بھی دنیا کے کسی کونے میں دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا تو اس کے تانے بانے کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کے ساتھ جاکر ملتے تھے مگر اب ہونے والی اس قسم کی بعض کاروائیوں کے تانے بانے یمن سے جاکر ملتے ہیں۔ میجر ندال حسن اور عمر فاروق عبدالمطلب کے واقعات ان کی تازہ مثالیں ہیں۔
اگر امریکہ یمن کو عملاً ایک فرنٹ کے طور پر کھولنے کا اعلان کرتا ہے تو یہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے لیے ایک ایسا موقع ثابت ہوسکتا ہے کہ اگر وہ شدت پسندی کا خاتمہ نہیں کرسکتیں تو کم سے کم اس سے جان چھڑالنے کے لیے اس کا رخ کہیں اور موڑ سکتی ہیں۔
اس کے لیے دونوں حکومتیں اپنے اپنے علاقوں میں سرگرم القاعدہ سے منسلک غیر ملکیوں کے لیے ایک ایگزٹ سٹریٹیجی وضع کرسکتی ہیں۔
اگر اس طرح ہوجاتا ہے تو امریکہ کی خطے میں موجودگی کا جواز ہاتھوں سے نکل جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ افغانستان میں ’مائنس القاعدہ‘ والی طالبان اور دیگر معتدل اور قبائلی مشران پر مشتمل حکومت قبول کرلے۔ امریکی حکام کا کچھ عرصے سے یہ کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے القاعدہ کی آپریشنل قوت کمزور کردی گئی ہے اور اس کے بعد طالبان کے ساتھ اس کا بظاہر مذاکرات کے لیے بیٹھنا اس کی طرف ایک بڑا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے۔






















