مودی کے لیے جرمن سفارتخانے پر مظاہرہ

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو جرمنی کے ایک پارلیمانی وفد کے ذریعے’نا پسندیدہ شخص‘ قرار دیے جانے پر جرمنی کے سفیر سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

مختار عباس نقوی
،تصویر کا کیپشنمختار عباس نقوی نے بتایا کہ جرمنی کے سفیر ٹامس میٹیوسک نے بتایا کہ پارلیمانی وفد کی حیثیت سرکاری نہیں تھی

بی جے پی کے قومی نائب صدرمختار عباس نقوی اور گجرات بی جے پی کے صدر پرشوتم روپالا کی قیادت میں پارٹی کے ارکان نے پیر کو جرمن وفد کے ریمارکس کے خلاف احتجاج میں جرمنی کے سفارتخانے کے نزدیک مظاہرہ کیا ہے۔

نئی دلی میں جرمنی کے سفیر کو پیش کی گئی ایک عرضداشت میں بی جے پی نے’حقوق انسانی کے ان خود ساختہ علمبرداروں کے غیر دوستانہ رویے‘ کے لیے سفارتخانے سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی نے بتایا کہ جرمنی کے سفیر ٹامس میٹیوسک نے بتایا کہ پارلیمانی وفد کی حیثیت سرکاری نہیں تھی اور یہ کہ وہ ان کے جذبات سے جرمنی کی پارلیمنٹ کو آگاہ کر دیں گے۔

گزشتہ جمعرات کو جرمنی کے ارکان پارلیمان کا ایک غیر سرکاری وفد حقوق انسانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیےاحمدآباد گیا تھا۔اس وفد نے دو روزہ قیام کے دوران وہاں حزب اختلاف کے بعض ارکان اور حقوق انسانی کے نمائندون سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ یوروپی یونین میں مسٹو مودی کی ’نا پسندیدہ شخص‘ برقرار رہے گی اور انہیں یوروپی یونین کے کسی بھی ملک میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ کہ’ جرمنی 2002 کے فسادات میں مسٹر مودی کے کردار کے لیے انہیں ویزا نہ دینے کے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔‘

وزیر اعلی نریندر مودی نے سنیچر کو وزیر اعظم منموہن سنگھ کولکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ وہ اس ریمارکس کے لیے جرمنی کے سفارتخانے سے معافی مانگنے کے لیے کہیں ۔

نریندر مودی
،تصویر کا کیپشنگجرات میں فسادات کی تحقیقات کرنے والی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم نے گزشتہ مہینے مسٹر مودی سے کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی

مسٹر مودی نے اس خط میں لکھا ہے کہ جرمن وفد کے بیان سے گجرات اور ملک کی شبیہ مجروح ہوئی ہے۔’ہندوستان مین اظہار کی آزادی ہے ۔ لیکن غیر ملکی اہلکار یہاں آ کر ریاستی اور وفاقی حکومت کی شبیہ نہیں خراب کر سکتے۔‘

جرمنی کے پارلیمانی وفد میں حکمراں کرسچین ڈیموکریٹ کے رکن پارلیمان اوٹے گرینیولڈ، سی ڈی یو پارلیمانی گروپ کے چیرمین جین بیٹنر ، فری ڈیموکریٹ پارٹی کے رکن پارلیمان پیسکل کوبیر اور حقوق انسانی کی تنظیم میسیو کے سربراہ اوٹمر اوئرنگ شامل تھے ۔

یہ وفد گجرات اور اڑیسہ میں حقوق انسانی اور مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پرایک رپورٹ جرمنی کی پارلیمنٹ کو پیش کرے گا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حقوق انسانی کی تنطیموں کی زبردست مہم کے نتیجے میں امریکہ اور بعض ديگر ممالک نے مسٹو مودی کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔

گجرات میں فسادات کی تحقیقات کرنے والی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم نے ابھی گزشتہ مہینے مسٹر مودی سے ان کے رول کے بارے میں کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی ۔