’قصاب کی سزا کا اعلان چھ مئی کو‘
عدالت نے قصاب کو سبھی ایک سو چھیاسی الزامات کے لیے قصوروار پایا ہے ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کا کہنا ہے کہ مجرم اجمل قصاب کو چھ مئی کو سزا سنائی جائے گی۔
منگل کو خصوصی عدالت میں اجمل قصاب کی سزا پر بحث ہوئی اور سرکاری وکیل اجول نکم اور وکیلِ صفائی کے پی پوار کے دلائل سننے کے بعد جج نے سزا کے تعین کا فیصلہ جمعرات کو کرنے کا اعلان کیا۔
ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تہیلیانی نے پیر کو اجمل امیر قصاب کو ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، دہشت گردی کی سازش کرنے، قتل اور اقدام قتل جیسے مختلف الزامات کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔
عدالت نے اس مقدمے کے دو ہندوستانی ملزمان فہیم انصاری اور صباح الدین صابر شیخ کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔
بی بی سی اردو کی ریحانہ بستی والا کے مطابق نکم نے عدالت میں قصاب کو سزائے موت دینے کے مطالبے کے حق میں آٹھ دلائل پیش کیے۔ ان کے مطابق قصاب نے یہ تمام قتل منصوبہ بندی سے کیے، انہوں نے سی ایس ٹی سٹیشن پر جن لوگوں کو مارا وہ بے سہارا اور مظلوم تھے اور مزاحمت کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں تھے۔
نکم نے قصاب کو ’ کلنگ مشین‘ کہا اور کہا کہ اس مشین کے بنانے والے پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے قصاب کو انسانیت اور سماج کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جیسے مجرم کی اصلاح نہیں کی جا سکتی۔
قصاب کے دفاعی وکیل کے پی پوار نے اپنے موکل کے دفاع میں سپریم کورٹ کے چند مقدمات کے حوالے پیش کیے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو ان کے موکل کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی برتنی چاہیے۔
پوار نے کہا کہ ان کے موکل کی عمر کم تھی اور وہ غیر تعلیم یافتہ تھے اس لیے انہیں اچھے برے کی پرکھ نہیں تھی۔ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے ان کے دماغ پر اثر ڈالا اور انہیں گجرات اور کشمیر میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم کی سی ڈی دکھائی جس سے ان کے ذہن پر غلط اثر مرتب ہوا۔
پوار کے مطابق ان کے موکل کو ذہنی اور جذباتی طور پر استعمال کر کے ان کا برین واش کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ ان کے موکل کا سابقہ کوئی بھی جرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور یہ ان کا پہلا جرم ہے۔ پوار کا کہنا تھا کہ اگر قصاب کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے تو وہ سدھر سکتے ہیں۔ انہیں بدلا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ابھی جوان ہیں اور یہ ان کا پہلا جرم تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر بھارتی میڈیا نے اجمل قصاب کو مجرم قرار دینے کے عدالتی فیصلہ کو سراہا ہے لیکن کئی اخبارات کا کہنا ہے کہ بات یہیں ختم نہیں ہوگی ۔’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ’فیصلہ اس معاملے کا اختتام نہیں ہے‘۔ اخبار کے مطابق وکیل استغاثہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ہندوستانی ملزمان کو بری کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
’دا ہندو‘ اخبار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان کو اس لیے سکون نہیں ملے گا کہ اس سازش کے اہم شخصیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور پاکستان میں اس سلسلے میں ہونے والی تفتیش غیر سنجیدہ ہے۔‘




















